• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب میں سینما کلچر زوال کا شکار، 50 برس میں 88 فیصد سینما گھر بند

اسلام آباد(قاسم عباسی) پنجاب میں سینما انڈسٹری گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران شدید زوال کا شکار ہو گئی، جہاں 1978میں اپنے عروج پر موجود369سینما گھروں کی تعداد کم ہو کر 2020-21تک صرف45رہ گئی۔ پنجاب ڈیولپمنٹ اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار پر مبنی گیلپ پاکستان کے تجزیے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے کا سینما نظام تقریباً 88 فیصد سکڑ چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق 1970 کی دہائی پنجاب میں سینما کلچر کا سنہری دور تھا۔ 1971 میں صوبے بھر میں 270 سینما گھر موجود تھے جو 1978 تک بڑھ کر 369 ہو گئے، جبکہ نشستوں کی مجموعی گنجائش بھی ایک لاکھ 51 ہزار 500 سے بڑھ کر 2 لاکھ 12 ہزار 395 تک پہنچ گئی۔ محققین کے مطابق اس دور میں سینما عوامی تفریح کا سب سے اہم اور آسان ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔تاہم 1980 کی دہائی سے اس شعبے میں مسلسل تنزلی شروع ہوئی۔ سینما گھروں کی تعداد 1978 کے 369 سے کم ہو کر 1990 میں 340، 1994 میں 322 اور 1998 تک 296رہ گئی۔ اسی دوران نشستوں کی گنجائش بھی گھٹ کر ایک لاکھ 76 ہزار 494 تک آ گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1990کی آخری دہائی اور 2000 کی ابتدائی برسوں میں یہ زوال مزید تیز ہو گیا۔ سینما گھروں کی تعداد 1998 کے 296 سے کم ہو کر 2000میں 274، 2003میں 263اور 2005 میں 249 رہ گئی، جبکہ نشستوں کی تعداد بھی گھٹ کر ایک لاکھ 45 ہزار 445 تک پہنچ گئی۔ تجزیے کے مطابق یہ صرف بتدریج کمی نہیں بلکہ سینما انفراسٹرکچر کے “ساختی انہدام” کی علامت تھی۔2006-07 سے 2013-14 کے درمیان سرکاری اعداد و شمار میں موجود خلا کو بھی رپورٹ میں تشویشناک قرار دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس عرصے میں ممکنہ طور پر سینما انڈسٹری اپنی کمزور ترین حالت میں پہنچ گئی تھی، جہاں فعال سینما گھروں کی تعداد نہایت محدود رہ گئی اور تفریحی شعبے کی سرکاری نگرانی بھی متاثر ہوئی۔2014 کے بعد کچھ حد تک بحالی کے آثار نظر آئے۔ 2014-15میں سینما گھروں کی تعداد 67، 2015-16 میں 71 جبکہ 2016-17 اور 2017-18میں 84 تک پہنچ گئی۔ تاہم نشستوں کی مجموعی گنجائش ماضی کے مقابلے میں بہت کم رہی۔

اہم خبریں سے مزید