اسلام آباد( طاہر خلیل، رانا غلام قادر ، عاطف شیرازی) قومی اسمبلی کی داخلہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ انمول عرف پنکی کے مختلف صوبوں کے ڈرگ ڈیلرز کے رابطے تھے اور ان سے منشیات خریدنے والوں میں بڑے بڑے شہروں کی نامور شخصیات، بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز، سیاستدان، شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے افراد، پارٹی بوائز سمیت 881اہم شخصیات شامل ہیں، کمیٹی کو بتایا گیا کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کیخلاف انمول عرف پنکی نے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔داخلہ کمیٹی نے ملک بھر میں غیرت کے نام پر قتل اور منشیات اسمگلنگ میں ملوث بڑے بڑے اسمگلروں کیخلاف فوری کاروائی کی سفارش کی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کمیٹی اور قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ انمول عرف پنکی نے کورٹ میں میرا نام لیا، میرا دامن صاف ہے، مگر ڈر ہے کوئی اور اس سازش کا شکار نہ ہو جائے، جرم ثابت ہونے تک کسی کی کردار کشی نہیں ہونی چاہئے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔کمیٹی نے راجہ پرویز اشرف کی جانب سے اٹھائے گئے اس معاملے پر غور کیا جو “انمول عرف پنکی” سے متعلق ایک ویڈیو کلپ کے بارے میں تھا، جو 18 مئی 2026 کو سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آیا۔ سابق وزیراعظم / رکنِ قومی اسمبلی نے کمیٹی کو بتایا کہ خاتون نے پولیس حراست میں عدالت میں پیشی کے دوران ان کا نام لیا، اور چند گھنٹوں بعد اس کے وکیل کے ذریعے ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کا نام دباؤ کے تحت لیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ان کی ساکھ خراب کرنے کی منظم کوشش معلوم ہوتا ہے، جس سے انہیں اور انکے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی اذیت پہنچی۔ انہوں نے کمیٹی سے فوری کارروائی کی درخواست کی۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا تھا، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے اسے ترجیح دی۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس نوعیت کے معاملات کو منظم کرنے اور غیر مصدقہ ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا پر حدود مقرر کرنے کی غرض سے قانون سازی کی جائے۔سندھ پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منشیات آن لائن نیٹ ورکس کے ذریعے تقسیم کی جا رہی تھیں اور ادائیگیاں بھی آن لائن لین دین کے ذریعے ہو رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نیٹ ورک 2018 سے کراچی میں سرگرم تھا اور ملزمان کے خلاف 17 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔