لندن( اے ایف پی) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کیلئے کئےگئے حالیہ امریکی فوجی آپریشن نے تیل کی عالمی منڈی میں ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نےکہ’ وہ امریکی کمپنیوں کو دوبارہ وینزویلا کے وسیع ذخائر تک رسائی دلوانا چاہتے ہیں‘ کئی اسٹریٹجک اور معاشی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔اوپیک کےاعدادو شمار کےمطابق وینزویلا303.221ارب بیرل کے ذخائر کے ساتھ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اوراسے سعودی عرب اور ایران پر سبقت حاصل ہے،لیکن اسکی پیداوار بہت کم ہے۔1999 میں ہیوگوشاویز کےدور میں وینزویلا میں تیل کی پیداوار35لاکھ بیرل یومیہ تھی جو اب گھٹ کر10لاکھ بیرل یومیہ تک آگئی ہے۔اےایف پی کےمطابق ماہرین تیل کی پیداوار میں اس کمی کا سبب برسوں سے جاری کرپشن ، ناقص انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری میں کمی کو قرار دیتے ہیں ۔دوسری جانب امریکہ نے وینزویلا کےتیل کی برآمدات پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ تیل خفیہ راستوں سےعالمی منڈی تک پہنچ رہا ہے۔