واشنگٹن ( اے ایف پی /نیوزڈیسک ) وینزویلا کے معزول صدرنکولس مادورواوران کی اہلیہ سیلیا فلورس کو پیرکے روز نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش کردیاگیاجہاں دونوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے ‘معزول صدرمادورونے مین ہٹن کی عدالت کے وفاقی جج کو بتایاکہ وہ بے گناہ ہیں اور انہیں اغواء کیاگیاہے ‘وہ اب بھی صدرہیں‘ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ‘ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 17 مارچ کو مقرر کر کے مادورو کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔وینزویلا کی پارلیمنٹ نے مادوروکی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کی سخت مذمت کی ہےجبکہ پارلیمنٹ کے نومنتخب سربراہ جارج روڈرگزنےاس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معزول صدر نکولس مادورو کو واپس لانے کے لیے تمام ممکنہ راستے تلاش کریں گے۔دارالحکومت کاراکس میں مادوروکے ہزاروں حامیوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے معزول صدرکی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ ادھر وینزویلا کے معاملے پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس شروع ہوگیاہے جبکہ یواین سیکریٹری جنرل انٹونیوگوتریس نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کی قانونی حیثیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیدیا‘ترک صدر رجب طیب اردوان کاکہنا ہے کہ انہوں نےٹرمپ سے کہا ہے کہ وینزویلا کو افراتفری میں نہیں ڈوبنے دینا چاہیے۔بین الاقوامی قانون کی کسی بھی خلاف ورزی سے عالمی نظام میں سنگین پیچیدگیاں پیدا ہوں گی‘دوسری جانب وینزویلا میں کارروائی کے بعد امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا‘ میکسیکو ‘گرین لینڈاورایران کوبھی دھمکیاں دے دیں ، جس کے بعد ان چاروں ممالک نے بھی واشنگٹن کو سخت الفاظ میں جواب دیاہے جبکہ گرین لینڈکے معاملے پر برطانیہ اور یورپی یونین بھی ٹرمپ کے خلاف میدان میں آگئے ہیں ‘عالمی برادری نے بھی ٹرمپ کے بیانات پر شدید ردعمل کا اظہارکیاہے ‘صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈرگز کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکی مطالبات کو تسلیم کریں ورنہ انہیں مزید فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ نکولاس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا ہی وینزویلا کا انچارج ہے‘وینزویلا کی عبوری صدر ديلسی روڈرگز کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور امریکہ سے باہمی احترام پر مبنی متوازن تعلقات کے خواہاں ہیں۔صدرٹرمپ نے ایک بار اس امر کا اعادہ کیاہے کہ امریکا کو قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک ایسا کرنے کے قابل نہیں ہے‘ایران کو خبردارکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر احتجاج کے دوران مزید مظاہرین ہلاک ہوئے توامریکا کی جانب سے انتہائی سخت جواب دیاجائےگا۔ ٹرمپ نے میکسیکو پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کرے‘ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو ذہنی بیمار قراردیتے ہوئے ان پر کوکین تیار کرنے اور اسے امریکا بھیجنے کا الزام لگایا اور یہ بھی کہا کہ ان کے پاس اقتدار میں زیادہ وقت باقی نہیں بچا ہے‘مادوروکی گرفتاری کے بعد اب کیوبا کی حکومت امریکی مداخلت کے بغیر ہی گر جائے گی۔امریکی صدرکی دھمکیوں کے جواب میں میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے پیر کے روز کہا کہ امریکی براعظم کسی ایک طاقت کی ملکیت نہیں ہیں‘ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسینی کاکہنا ہے کہ اگرچہ عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہے تاہم فسادیوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی‘ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مادوروکی رہائی کا مطالبہ کیاہے ‘ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کے وزیرِ اعظم جینس فریڈرک نے خبردار کرتے ہوئے کہاہے کہ بس اب بہت ہوچکا ‘ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹ فریڈرکسن کاکہنا ہے کہ اگر امریکا نے نیٹو کے اتحادی پر حملہ کیا تو یہ ہر چیز کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔