کراچی (رفیق مانگٹ) برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق وینزویلا میں امریکی کمانڈوز کی غیر معمولی کارروائی کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ یہ جنوبی امریکا میں کسی خودمختار ملک کے خلاف امریکی فوج کی پہلی براہِ راست کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے وینزویلا کے تیل کے وسائل اور امریکی کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ ٹرمپ بظاہر مادورو کی سابق نائب، ڈیلسی روڈریگز، کو عبوری صدر کے طور پر برقرار رکھنے کے حق میں ہیں، بشرطیکہ وہ واشنگٹن کے مطالبات پر عمل کریں۔ ڈیلسی روڈریگز ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا کر رہی ہیں۔ اگر وہ امریکی ہدایات پر مکمل عمل کرتی ہیں تو ملک کی حکمراں انقلابی سوشلسٹ پارٹی کے سخت گیر عناصر انہیں غدار قرار دے کر اقتدار سے ہٹا سکتے ہیں۔ ملک کے طاقتور وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو اور وزیرِ داخلہ دیوسدادو کابیلو، جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں، بدستور وینزویلا کی عسکری اور داخلی طاقت پر قابض ہیں۔ ہفتے کے اختتام پر کاراکاس کی سڑکیں ویران رہیں اور فی الحال احتجاج کی کوئی واضح لہر نظر نہیں آئی۔ شہری حکومت کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خوف سے گھروں میں محدود ہیں، لیکن حالات کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن کی رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو نے اپنے اتحادی ایڈمنڈو گونزالیز کو اقتدار سنبھالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واشنگٹن اور کئی دیگر ممالک گونزالیز کو 2024 کے صدارتی انتخابات کا حقیقی فاتح تسلیم کر چکے ہیں۔