کراچی(سید محمد عسکری)نئے سال کے آغاز کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) تاحال مستقل چیئرمین کے بغیر کام کر رہا ہے، جس کے باعث ملک بھر کے تعلیمی اور پالیسی حلقوں میں تشویش اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ عہدہ 29جولائی 2025سے خالی ہے جبکہ کمیشن کے امور عبوری (ایڈہاک) بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں۔ایچ ای سی آرڈیننس کے مطابق، چیئرمین کے عہدے کے خالی ہونے کی صورت میں مجاز اتھارٹی زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے قائم مقام چیئرمین مقرر کر سکتی ہے، اور اس مدت کے دوران مستقل تقرری لازم ہے۔ تاہم اب پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، جس سے قانون کی پاسداری اور ادارہ جاتی نظم و نسق پر سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔اعلیٰ تعلیمی شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق چیئرمین کی تقرری کے لیے تلاش اور انتخاب کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ نو رکنی سرچ کمیٹی، جس کی سربراہی وفاقی وزیر برائے وفاقیتعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی، نے انٹرویوز کے بعد تین ناموں کی سفارش کی ہے جن میں ڈاکٹر سروش لودھی، ڈاکٹر محمد علی شامل اور ڈاکٹر نیاز احمد اختر ہیں۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد شارٹ لسٹ کیے گئے ناموں پر مشتمل سمری حتمی منظوری کے لیے وزیرِاعظم ہاؤس کو ارسال کر دی گئی۔تعلیمی اسٹیک ہولڈرز نے اس مسلسل تاخیر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک عبوری انتظامات ادارہ جاتی خودمختاری، اسٹریٹجک فیصلہ سازی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں طویل المدتی پالیسی منصوبہ بندی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق قانون کے تقاضوں کے تحت پالیسی، فنڈنگ اور ریگولیٹری نوعیت کے اہم فیصلوں کے لیے مستقل چیئرمین کی قیادت ناگزیر ہے۔اس تاخیر کے باعث پالیسی حلقوں میں قیاس آرائیاں بھی جنم لے رہی ہیں، خصوصاً اس تناظر میں کہ تقرری کا عمل کئی ہفتے قبل ہی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام مراحل قانون کے مطابق مکمل کیے گئے ہیں، تاہم ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مزید تاخیر یونیورسٹیوں، تحقیقی فنڈنگ اور بین الاقوامی تعلیمی روابط پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مبصرین نے وزیرِاعظم ہاؤس پر زور دیا ہے کہ منظوری کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں، متعلقہ حلقوں کا اعتماد بحال ہو اور ملک کے اعلیٰ تعلیمی ریگولیٹری ادارے کے استحکام اور ساکھ کو محفوظ بنایا جائے۔