کراچی(اسٹاف رپورٹر) عالمی اعداد و شمار کے مطابق میڈیکل طلبہ میں ڈپریشن کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں دو سے پانچ گنا زیادہ جبکہ پچاس فیصد سے زائد ڈاکٹر شدید ذہنی تھکاوٹ(برن آؤٹ) کا شکار ہیں۔ ان تشویشناک حقائق کے تناظر میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) میں طبی شعبے کو درپیش بڑھتے ہوئے ذہنی صحت کے بحران پر ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔ “ہیلتھ اینڈ ویل بینگ” کے عنوان سے ہونے والے اس سیمینار میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مریضوں کی دیکھ بھال کے ذمہ دار افراد خود شدید ذہنی دباؤ، جذباتی تھکن اور مسلسل کام کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ مریضوں کی سلامتی، طبی فیصلوں کے معیار اور مجموعی نظامِ صحت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ وائس چانسلر جے ایس ایم یو پروفیسر امجد سراج میمن نے کہا کہ جدید طبی تعلیم کا تقاضا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز اور طلبہ کی ذہنی فلاح و بہبود کو بھی ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ “ڈاکٹر کی ذہنی صحت محفوظ، مؤثر اور انسان دوست علاج کی بنیاد ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ادارے اس حقیقت کو اپنی پالیسی اور نظام کا حصہ بنائیں۔”سینئر ماہرِ نفسیات اور سیمینار کے منتظم پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ ذہنی صحت کی تعلیم اور ابتدائی اسکریننگ کو طبی تربیت کا لازمی جزو بنایا جانا چاہیے۔