• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خطیب پاکستان، حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی

تحریر…علا مہ سید سعادت علی قادری

علامہ محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ سے میرا تعارف ان کے کراچی آمد کے بعد ہوا،اِس سے قبل مدرسہ انوارالعلوم ملتان میں وہ آتے رہتے تھے،کبھی ملاقات تو نہ ہوسکی لیکن والد ماجد حضرت مفتی سید مسعود علی قادری سے اُن کی ہونہاری اور خوش الحانی کاذکر سناکرتاتھا ،اُن کی کراچی آمدکے بعد تادمِ آخر اُن سے تعلق رہا،تنظیمی وسیاسی اور مذہبی جلسوں میں مسلسل ملاقاتوں کے باعث دونوں ایک دوسرے سے قریب ہوتے رہے اور رسمی تعلق دوستی میں تبدیل ہوگیا۔ 1964ء میں جماعتِ اہل سُنّت ( کی تشکیل نو )کا آغازہوا، راقم الحروف، علامہ عبدالمصطفی ازہری ،مفتی شجاعت علی قادری، علامہ محمد حسن حقانی ،مولانا جمیل احمد نعیمی اور علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ بانی ممبران میں شامل تھے،مجھے جماعتِ اہل سُنّت پاکستان کا ناظم اعلیٰ مقررکیا گیا،جب کہ علامہ اوکاڑوی صدر منتخب ہوئے ،موصوف چوں کہ تقریروں اور مطالعہ کے سبب ساری رات جاگتے تھے لہٰذا انہوں نے بایں شرط یہ عہدہ قبول کیاکہ ظہر سے قبل جماعت کانہ تو کوئی اجلاس ہوگااور نہ ہی دوسری مصروفیت ہوگی ۔ وقتی طور پر تو یہ شرط قبول کرلی گئی لیکن اس کی پابندی ممکن نہ تھی ،جوں جوں جماعت کا دائرہ کار بڑھتا گیاشرط کی پابندی ختم ہوتی گئی ، کبھی صبح کبھی شام اور کبھی رات ،ہمیں اپنے صدر کی ضرورت پیش آتی رہی ،جو علامہ مرحوم کے لیے بے حد پریشانی کا باعث بنی،مجبورا انہوں نے مجلسِ عاملہ کے ایک اجلاس میں مناسب معذرت کے ساتھ استعفیٰ پیش کردیا ،جس کے بعدعلامہ عبد المصطفیٰ الازہری کوصدارت کی ذمہ داری سونپی گئی ۔

علامہ اوکاڑوی مرحوم نے اپنے دورِ صدارت میں اپنی ذاتی مصروفیت کو جماعتی کام پر کبھی متاثر نہ ہونے دیا ۔آج کوئی نہیں جو علامہ اوکاڑوی مرحوم کی طرح صر ف اپنی مصروفیات کے سبب صدارت جیسے اعزاز کوچھوڑدے اور مجلس عاملہ کے ایک ممبر کی حیثیت سے تنظیم میں شامل رہے ،اور ہرممکن تعاون کرتا رہے۔

’’سُنّی کانفرنس‘‘کراچی کے انعقاد میں سب سے بڑی دشواری ،مالی وسائل کی کمی تھی ، اُس وقت جماعت کے فنڈ میں صرف بارہ ہزار روپے تھے ،جب کہ مَیں نے مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں تقریبا ستر ہزار کاتخمینہ پیش کرڈالا ۔اجلاس ختم ہوا تومیرے کمرے میں تشریف لائے،پھر تسلی دیتے ہوئے فرمایا ’’مرد مجاہد بنو،ہمت کرو،اپنے پروگرام کے مطابق کام شروع کرو،اللّٰہ مدد فرمائے گا،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دین کی خدمت کے لیے وسائل کبھی کم نہیں ہوتے ،پھر فرمایا ’’مَیں پوری طرح تمہارے ساتھ تعاون کروں گا مَیں نے اپنے مخلص دوست کے مشورے پر عمل شروع کردیا ،تیاریاں ہوتی رہیں ،اسٹیج تیار ہوگیا، کراچی کے گوشہ گوشہ سے جلوس برآمد ہوئے اور آغازِ کانفرنس سے کافی پہلے نشترپارک بھر گیا، مولانا اوکاڑوی پہنچے جب انہوں نے مجھے نہایت محبت سے گلے لگایا تو مَیں رونے لگا،فرمانے لگے، ’’رونے کا نہیں خوشی کا وقت ہے ‘‘خطیب پاکستان نے اپنے مخصوص انداز میں خطبہ کا آغاز کیا ، آپ نے دورانِ تقریردس منٹ بعد ہی چندے کی اپیل کردی ،بس فرمایا:’’سُنّیو! جیبوں میں ہاتھ ڈالواور جوکچھ ہے ،اپنے آقا ﷺ کے نام پر پیش کردو ۔بس اتنا کہنا تھا کہ ایک طوفان ساامڈ آیا ،مجمع میں رضا کار چندہ جمع کرنے والے بکثرت موجود تھے ،لیکن عاشقوں کی توجہ اسٹیج کی طرف تھی ،کہ وہ اپنے ہدایا بذات خود مولانا کی خدمت میں پیش کرنے کے خواہاں تھے ،علامہ ازہری ،مولانا جمیل احمد نعیمی اور میں ردی کے پرزوں کی طرح نوٹوں کوسمیٹ رہے تھے ،لیکن نوٹ قابو نہ آتے تھے ،خود مولانا بھی بیٹھ گئے اور ہماری مدد کرنے لگے ،لوگوں نے شور برپا کردیا ،کہ اہل محبت عاشقِ رسول ﷺکی زیارت سے آج سیرہونا چاہتے ہیں ،مَیں نے حضرت سے گزارش کی آپ کھڑے ہوجائیں ورنہ چندہ رک جائے گا،مولانا کھڑے ہوئے ،تو نعروں کی گونج سے ایک مرتبہ پھر جلسہ گاہ گونج اٹھی ،غرضیکہ پیسہ آتا رہا اور ہم جھولیاں بھرتے رہے ،معلوم ہوتا تھا کہ نوٹ برس رہے ہیںخطیب پاکستان حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ کی ایک اہم خصوصیت ان کا اندازِ بیان تھی اوریہی ان کی عزت وشہرت کاسبب بنی۔انہیں فنِ تقریر پرپورا پورا عبور حاصل تھا نہایت مثبت، مدلل اورپرکشش انداز میں وہ عقائد بیان کرتے تھے،حضرت علامہ کا اندازِ بیان ،کسی کی نقل نہ تھا بلکہ ان کی اپنی تخلیق تھا وہ نثر کو خوش الحانی سے بیان کرتے تھے جو بہت مشکل کام ہے جب کہ نظم میں لحن عام اور آسان ہے جب کہ موصوف گھنٹوں،نثر میں لحن جاری رکھتے تھے ،مزید برآں یہ کہ ان کے پاس الفاظ کاذخیرہ تھا جن کی گھنٹوں بارش برستی رہتی تھی،اور صرف لفاظی ہی نہ ہوتی بلکہ مواد کی بھی بھرمار ہوتی تھی۔وہ قرآن وحدیث کے علاوہ اسلاف کی عربی عبارات کونہایت ہی پیارے انداز میں مع حوالہ جات سناتے اور ان سے اپنے مدعا کو ثابت کرتے تھے ۔حضرت علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ ایک کام یاب قلم کار بھی تھے ،انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں جن کی اشاعت جاری ہے ۔ان کی تحریر میں نہایت سادگی نظر آتی ہے جب کہ وہ زبان سہل استعمال کرتے ہیں کہ کم علم لوگ بھی پوری طرح استفادہ کرسکتے ہیں ،ایک مقرر اور وہ بھی مصروف ترین مقرر کا مصنف ہونا بڑی بات ہے اکثر مقررین کو تصنیف کا وقت ہی نہیں ملتا اور نہ ہی ان میں تحریر کا ملکہ ہوتا ہے ۔

علامہ مرحوم نہایت خوبصورت اور خوب سیرت تھے،خوش عادات وخوش اطوار تھے ، صوفیانہ مزاج کے مالک تھے ۔لباس میں سادگی لیکن نہایت نفاست ہوتی تھی ۔باس دنیائے فانی کے نظام کے مطا بق وہ بھی چلے گئے لیکن بحمد اللّٰہ ان کے بڑے صاحب زادے علامہ کوکب نورانی ہم میں موجود ہیں ۔ ، باپ کی یادوں کو تازہ کیے ہوئے ہیں ان کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں ،ذی علم بھی ہیں،مصنف بھی ہیں مقرر بھی اچھے ہیں اگرچہ والدِ گرامی جیسا اندازِ بیان نہیں ،’’اللّٰھم زد فزد‘‘ان کی مساعیٔ جمیلہ قابلِ تحسین وستائش اور صدآفرین ہیں۔

مَیں جب بھی کوکب نورانی کو دیکھتا ہوں مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب حضرت مولانا نے انہیں میری گود میں دیتے ہوئے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور فرمایا’’دعا کیجئے اللّٰہ اسے حافظ وعالم بنائے اور میرا کام یاب جاںنشین کرے ‘‘۔

میری دعاہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل حضرت علامہ اوکاڑوی مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے ،ان کے فیوض وبرکات کو جاری رکھے ،عزیزم علامہ کوکب نورانی کو مزید دولتِ علم وعمل سے مالامال کرے انہیں اور دیگراہل خانہ کو ہرقسم کے آفات وبلیات سے محفوظ رکھے ۔ آمین یا رب العٰلمین بجاہِ رحمۃِ اللعٰلمین وصلی اللّٰہعلیٰ خیرخلقہٖ سیدنا محمد وعلیٰ اٰلہٖ وصحبہٖ اجمین ، برحمتک یا ارحم الرٰحمین ۔

ملک بھر سے سے مزید