آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: اکثر لوگ جمعہ کی نماز میں جگہ بنانے کے لیے کسی کو پھلانگ کر آگے جا تے ہیں، لیکن میرے خیال میں جہاں جگہ ملے، وہیں بیٹھنا چاہیے۔ اس حوالے سے شرعی راہ نمائی درکار ہے؟
جواب: کسی بھی بڑے مجمع خواہ وہ وعظ کی مجلس ہویا جمعہ کا بیان، لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا منع ہے۔ سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردانیں پھلانگتا ہے وہ جہنم کی طرف پل بناتا ہے۔ (أبواب الجمعۃ، باب ما جاء فی کراھيۃ التخطی يوم الجمعۃ 1/ 519 ط: دار الغرب الاسلامی)
سنن ابی داؤد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کا خطبہ فرمارہے تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھا، نبی کریم ﷺ نے اسے روکا اور وہیں بیٹھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔ (کتاب الصلاۃ،باب تخطی رقاب الناس يوم الجمعۃ 2 / 334 ط: دار الرسالۃ العالميۃ)
اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ اکرامِ مسلم کے خلاف ہے، اور اس میں ایذائے مسلم ہے، لہٰذا جمعہ کے بیان یا خطبے کے دوران اگر شدید ضرورت نہ ہو، اور آگے بڑھنے سے کسی مسلمان کو تکلیف ہوتی ہو تو لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے پہنچنا مکروہ ہے، لیکن اگر ضرورت ہو ،مثلاً پچھلی صفوں یا صحن وغیرہ میں جگہ نہ ہو اور اگلی صف میں جگہ موجود ہو، یا اگلی صف میں بیٹھا ہو اور کسی طبعی تقاضے کی وجہ سےاسے فوری باہر نکلنا ہو،یا لوگ کشادہ کشاہ بیٹھے ہوں اور آگے آکر ان کے درمیان بیٹھنے سے کسی کو تکلیف نہ ہو، یا آنے والا کوئی مقتدیٰ وپیشوا ہو جس کے آگے جانے میں لوگ تکلیف محسوس نہ کرتے ہوں تو ان تمام صورتوں میں آگے جانے کی اجازت ہوگی۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، 2/ 163، ط: سعيد)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk