تفہیم المسائل
سوال: عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ افطار کے وقت پہلے مسنون دعاء افطار پڑھتے ہیں، پھر افطار کرتے ہیں، جبکہ کھانے کی دعاء کھانے کے بعد پڑھی جاتی ہے، ازراہِ کرم بتایئے کہ صحیح طریقہ کیا ہے؟ (محمداعظم، مظفرآباد، آزاد کشمیر)
جواب: ’’حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ جب روزہ کھول لیتے تو فرماتے: پیاس چلی گئی، رگیں تر ہوگئیں، اور انشاء اللہ اجر ثابت ہوگیا ہے، (مشکوٰۃ بحوالہ ابودائود)۔‘‘ دوسری حدیث میں ہے: معاذ بن زہرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ جب افطار فرمالیتے تو یہ دعاء پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلـٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔’’اے اللہ! میں نے تیری رضا کے لئے روزہ رکھا اور تیرے ہی عطاکردہ پر افطار کیا،(مشکوٰۃ بحوالہ ابودائود)۔‘‘
حدیث مبارک کے الفاظ بالکل واضح ہیں کہ افطار سے فراغت کے بعد رسول اللہﷺ اظہارِ بندگی اور تشکر ِنعمتِ باری تعالیٰ کے لئے یہ دعاء فرماتے۔ امام احمد رضا خان قادری فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں کہ ملا علی القاری شارح ِمشکوٰۃ نے بھی یہی لکھا کہ حضورﷺ افطار کے بعد یہ دعاء مانگتے تھے، اور ابن المبارک نے تو واضح طور پر لکھا ہے کہ ’’اَیْ قَرَأَ بَعْدَالْاِفْطَارِ‘‘‘ یعنی آپ افطار کے بعد یہ دعاء پڑھتے تھے۔
اور اگر کوئی شخص اس دعاء کو ’’قبل ِافطار‘‘ پر محمول کرتا ہے تو وہ بلاضرورت حدیث میں تاویل کرتا ہے، یعنی اس صورت میں کلماتِ حدیث ’’اِذَا اَفْطَرَ‘‘ کے معنی یہ کرنا پڑیں گے کہ ’’اَیْ اِذَا اَرَادَالْاِفْطَارَ‘‘ یعنی جب آپ افطار کا ارادہ فرماتے، اور بلاضرورت حدیث پاک میں اپنی من پسند تاویل کرنا درست نہیں ہے۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com