• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہِ رمضان کی انفرادی و اجتماعی عبادات

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

رمضان المبارک کی اہمیت و فضیلت اور اس کی معنویت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ پورا کامل ایک مہینہ انسان کی اخلاقی و فکری ، دینی و ایمانی، روحانی و جسمانی ، قلبی و نفسانی اورعلمی و عملی تربیت اور تزکیہ کے لئے خاص کیا گیا ہے، پھر تربیت کے لئے ان تمام لوازمات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے جو ہماری روح کی بالیدگی اور ہماری سیرت کی تعمیر و تشکیل میں معاون ہوتے ہیں۔ 

رمضان میں ہماری جس تربیت و تزکیہ کا اہتمام کیا گیا ہے، وہ کوئی ادھوری اور ناقص تربیت ہر گز نہیں، بلکہ یہ ایک کامل و اکمل اور اعلیٰ ترین تربیت ہے اور اس تربیت سے مطلوب و مقصود یہ ہے کہ انسان نہ صرف یہ کہ اپنی انفرادی زندگی میں صالح اور نیک بن سکے، بلکہ اسے اجتماعیت کا بھی احساس و ادراک اور شعور ہو اور وہ زندگی کے اجتماعی تقاضوں کو پورا کرسکے۔ کیونکہ اس کے بغیر کسی اعلیٰ کردار یا اعلیٰ اخلاق کا تصور ممکن نہیں۔ 

انسان کے خالق اللہ کے مطلوب انسان وہی ہو سکتے ہیں جو اپنی انفرادی زندگی میں بہترین و اعلیٰ ترین انسان ثابت ہونے کے ساتھ اجتماعی زندگی سے کبھی راہ فرار اختیار نہ کریں ، بلکہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا پوراادراک اور مکمل احساس و شعور رکھتے ہوں۔

اسی احساس و شعور کو اجاگر کرنے کے لئے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ’’رمضان کا مہینہ (وہ مہینہ ہے) جس میں قرآن کو نازل کیا گیا، لوگوں کی ہدایت کے لئے اور امتیاز حق و باطل کی دلیلوں کے ساتھ۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی بھی اس مہینے میں موجود ہو اسے چاہیے کہ اس مہینے کے روزے رکھے۔ (البقرہ ۱۸۵)

ہماری تربیت و تزکیہ کے لئے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا گیا، اور اس کا رشتہ و تعلق واضح طور پر قرآن مجید سے قائم کیا گیا ہے۔ قرآن کے نزول کا مقصد رمضان کے روزوں کے مقصد سے مختلف نہیں ہے۔ قرآن انسانی زندگی کے لیے ہدایت اور ضابطہ حیات بن کر نازل ہوا ہے، تاکہ اس پر ایمان لانے والے دلائل و براہین اور بصائر و عبائر کی روشنی میں نظام حق کو پالیں، ان کے اندر حق و باطل میں فرق و امتیاز کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم پیدا ہوجائے۔ 

وہ کبھی بھی غلطی نہ کریں،ان کے قدم ’’صراطِ مستقیم‘‘ سے بھٹک کر کبھی بھی غلط راہوں پر نہ پڑیں وہ اتنے بلند ہو جائیں کہ گمراہیوں کی پستیاں انہیں اپنی طرف راغب کرنے میں ناکام رہ جائیں ،وہ قرآن کے نور سے ایسے منور ہو جائیں کہ گمراہی کے اندھیروں سے نکل کر قرآن کی روشنی میں آجائیں اور پھر کبھی بھی گمراہی کے اندھیرے انہیں اپنے اندر گم نہ کر سکیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ روزے کی نسبت سے رمضان کے مہینے کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے، روزہ ایک مقدس عبادت اور ہماری اخلاقی و روحانی تربیت و تزکیہ کا ایک بہترین ذریعہ ہے پھر یہ کہ ضبط نفس، فرض شناسی اور تقویٰ کے بغیر اعلیٰ ترین انسانی تربیت بھی ایک لفظ بے معنی بن کر رہ جاتی ہے، چنانچہ قرآن کریم میں صاف، واضح الفاظ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ روزے کا اصل مقصد ’’تقویٰ‘‘ کا حصول ہے ’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کئے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تا کہ تقویٰ حاصل کر سکو ‘‘(سورۃالبقرہ)

تقویٰ کا مطلب ہے اللہ کا حکم ماننا، اللہ کے حکم کی خلاف ورزی سے بچنا، (پرہیز گاری) اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کے بدترین نتائج سے ڈرنا ، اللہ کے حکم حفاظت و نگہداشت کرنا تقویٰ کا حاصل احساس ذمہ داری، ضبط نفس، خدا ترسی، بڑی حقیقت کے پیش نظر چھوٹی چیزوں سے صرف نظر کرنا ہے۔ 

خواہشات سے مغلوب انسان نہ تو اللہ کی عظمت اور بزرگی کا صحیح ادراک و احساس کر سکتا ہے اور نہ وہ زندگی کی اعلیٰ قدروں اور عظیم حقیقتوں کو محسوس کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کے لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر چل سکے۔

روزہ اس حقیقت کا عملی مظاہرہ ہے کہ کھانا پینااور جنسی خواہشات کی تکمیل ہی کل زندگی نہیں، بلکہ ان سفلی خواہشات سے اوپر کچھ اور بھی زندگی کی اعلیٰ حقیقتیں اور اقدار ہیں اور وہی دراصل حقیقی سرمایۂ حیات ہے۔ روزہ حقیقت میں اس عمل کا نام ہے کہ بندہ کو اپنی خواہشات پر قابو ہواور اسے تقویٰ کی زندگی حاصل ہو، اس کی نگاہیں عفیف ہوں اس زندگی پاکیزگی ِنفس اور طہارت ِ قلب و روح کا آئینہ ہونے کا ساتھ ساتھ خدا ترسی کا مکمل عکس بھی ہو۔ روزے کی حالت میں جہاں کھانے پینے اور خواہشات نفس سے رکا ہو، وہاں وہ گناہوں کے ارتکاب اور نا پسندیدہ کاموں کو ہمیشہ کے لئے ترک کر ے۔

روزہ اپنی روح اور مقاصد کے اعتبار سے بندے کا خود کو اللہ کے لئے دنیا داری سے فارغ اور کامل طور پر اللہ کی جانب متوجہ ہونے کا نام ہے، اس پہلو سے روزے اور اعتکاف کے درمیان بھی بڑی معنویت اور گہری مناسبت پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اعتکاف کے ساتھ روزہ لازم کیااور رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا مشروع و مسنون قرار دیا گیا ہے۔

رمضان کی معنویت و اہمیت انفرادی ا ور اجتماعی دونوں ہی پہلوؤں سے ہے ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات گرامی سے بھی واضح ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ’’رمضان صبر و استقامت کا مہینہ ہے، جو لوگ رمضان کی ظاہری و باطنی برکتوں سے پورا فائدہ اٹھاتے اور ماہ رمضان کے آداب کا پورا لحاظ رکھتے ہیں ان کے لئے یہ پورا مہینہ خیر و برکت سے معمور ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آ خری جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔

یہ اور ایسی دوسری متعدد احادیث یہ سمجھنے اور اندازہ کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لئے رمضان اور روزہ میں کیا معنویت اور اہمیت ہے۔ خصوصیت کے ساتھ رمضان میں اجتماعیت کی شان بتمام و کمال پائی جاتی ہے، تمام امت اور ایمان والے ایک ساتھ روزہ رکھتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ عبادت اور نیک کامو ں میں مشغول ہوتے ہیں۔ 

اس سے معاشرہ میں نیکی اور روحانیت کی ایک مجموعی فضاء پیدا ہوجاتی ہے جو انسانی دلوں کو گہرائی تک متاثر کرتی ہے۔ عام حالات میں آدمی کو ایک دوسرے کی تکلیف اور بھوک کا احساس کم ہی ہوتا ہے لیکن روزہ میں بھوک پیاس کا ذاتی و عملی تجربہ آدمی کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ ناداروں ، بھوکوں اور ضرورت مندوں کو ہر گز فراموش یا نظر انداز نہیں کرے۔ خود نبی کریم ﷺ اس مہینے میں انتہا درجہ فیاض ہوتے تھے۔ 

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ رمضان’’ مواسات‘‘ یعنی ہمدردی، غم خواری اور خبر گیری کا مہینہ ہے۔ روزے میں اپنے دوسرے مومن بھائیوں کے لئے ہمدردی ، غم خواری اور خیر خواہی کے جذبات معاشرے میں سیلابی پانی کے ریلے کی طرح رواں دواں ہونے چاہییں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ جو کوئی روزے دار کو افطار کرائے تو اس کے لئے ویسا ہی اجر ہے، جیسا روزے دار کے لئے ہے، چاہے یہ افطار آدھی کھجور یا پانی سے ہی ہو۔ 

جو کوئی روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے اللہ اسے میرے حوض (کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا کہ اسے پیاس ہی نہیں لگے گی، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا‘‘۔ ارشاد نبویؐ ہے کہ جو شخص رمضان میں اپنے خادم یا ملازم کے کام میں تخفیف کر دے گا۔ اللہ اس کی مغفرت فرمادے گا اور اسے جہنم کی آگ سے نجات دے گا۔

غرض ہم اگر رمضان سے واقعتاً فائدہ اٹھائیں تو یہ رمضان اور اس کے روزے ہمیں انسانیت اور اشرف المخلوقات کے اس بلند مقام اور منصب پر لا کر کھڑا کر دے گا کہ جہا ں ہمیں ہر وقت اپنی دینی و دنیاوی ذمہ داریوں کا احساس ہوگا اور پھر اس احساس کے زیر اثر ہمارے روز و شب غفلت اور لا پروائی میں بسر نہیں ہو سکیں گے۔ بندۂ مومن اللہ کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا اور وہ بندگانِ الہٰی یعنی انسانوں کے حقوق ادا کرنے والا اور ان کا سب سے بڑھ کر خیر خواہ ہوگا۔

اقراء سے مزید