ڈاکٹر نعمان نعیم
ماہِ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ، عشرئہ رحمت ہم سے جدا ہونے والا ہے۔ اب دوسرا عشرہ، عشرئہ ’’بخشش و مغفرت‘‘ اپنی تمام تر فیوض و برکات، رحمت و مغفرت کے ساتھ سایہ فگن ہورہا ہے۔ اس دوسرے عشرے میں شب کی تنہائیوں میں اشکِ ندامت بہا کر اپنے گناہوں پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے توبہ و استغفار کریں اور اپنے رب کو راضی کرلیں کہ کون جانے، اگلے سال برکتوں والا یہ مہینہ، رحمت، مغفرت اور نجات کے یہ عشرے میسّر بھی آتے ہیں یا نہیں؟
ماہِ صیام کے دوسرے عشرے میں ہمیں اپنی، اپنے والدین اور جملہ اہلِ ایمان کی بخشش و مغفرت کے لیے پہلے سے زیادہ خشوع و خضوع سے دعائیں، التجائیں کرنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے کی برکت کی وجہ سے ہم سے راضی اور خوش ہوکر ہماری مغفرت و بخشش کردے۔ اس کا تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا کہلاتاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت میں جہنم کی آگ سے خلاصی اور اُس سے نجات عطا فرمائے۔
رمضان المبارک مغفرت و بخشش کا وہ عظیم الشان مہینہ ہے کہ اگر اسے پالینے کے بعد بھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت اور جہنم سے خلاصی پانے سے محروم رہ گیا تو وہ انتہائی بدقسمت اور حرماں نصیب شمار ہوگا۔ رمضان المبارک کو اس لئے رمضان کہا جاتا ہے کہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے اور توبہ و استغفار تو ویسے بھی اس مہینہ کے اہم ترین مقاصد میں سے ہیں، چنانچہ جس شخص کی توبہ قبول ہوگئی اوراللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا تو گویا وہ رمضان المبارک کے فضائل وبرکات سے مالامال ہوگیا۔
خود آنحضور ﷺ رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں انتہائی کثرت اور اہتمام سے توبہ و استغفار کرتے تھے۔ دوسرے عشرے کی دعا ہے: ’’میں اللہ تعالیٰ سے تمام گناہوں کی معافی مانگتا ہوں (جو میرا پروردگار ہے) اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔‘‘
ویسے تو اِس مہینے کے ہر لمحے میں استغفارکرنا موجب ثواب اور برکت ہے ہی لیکن سحری کے وقت استغفار کرنا بہت زیادہ اجر اور ثواب رکھتا ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:’’متقی لوگ باغات اور چشموں میں اس طرح رہیں گے کہ ان کا پروردگار انہیں جو کچھ دے گا، اسے وصول کر رہے ہوں گے۔ وہ لوگ اس سے پہلے ہی نیک عمل کرنے والے تھے اورپھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں استغفار کرتے تھے۔‘‘ (سورۃالذّاریات: ۱۵؍تا ۱۸)
رمضان المبارک میں سحری کے بعد سے لے کرشام افطاری سے پہلے تک مسلمان رضائے الٰہی کے لئے بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کو اُن کی یہ ادا اتنی پسند آتی ہے کہ اگر انسانوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ اِس کے بدلے میں کیا کچھ آخرت میں عطا فرمائیں گے تو اُن کے کلیجے خوشی سے پھٹ جائیں۔
اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے بھوکا اور پیاسا رہنے سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ وہ تو انسانوں کی بھلائی چاہتا ہے کہ وہ روزہ رکھنے کی برکت سے اپنی روح و جسم اور اپنے اعضاء و جوارح (دل و دماغ، ہاتھ، پاؤں اور زبان ) کی اصلاح کرکے اپنی دُنیا اور آخرت کی زندگی سنوار کر، کامیاب ہوکر آخرت کی نعمتیں اپنے دامن میں سمیٹ لیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ’’تین لوگوں کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ ایک روزہ دار کی افطار کے وقت۔ دوسری عادل بادشاہ (یعنی عدل و انصاف کرنے والے حاکم) کی، اور تیسری مظلوم کی۔‘‘ (جامع ترمذی) لہٰذا جتنا ممکن ہوسکے جانے انجانے میں کئے گئے گناہوں پر نادم اور شرمندہ ہو کر معافی مانگنی چاہئے کیونکہ وہ ذات بہت عظیم ہے۔
معاف کرنے پر آئے تو بڑے سے بڑے گناہ گار کو بھی معاف کر دیتی ہے اور اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ ہر رات تہائی حصے کے بعد فرماتا ہے: ’’کوئی ہے جو مجھ سے رحمت مانگے، کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے، کوئی ہے جو مجھ سے دُعا مانگے تاکہ میں اپنے بندے کی حاجت پوری کروں؟‘‘ (صحیح بخاری)
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’رمضان المبارک کے ہر دن اوررات میں اللہ تعالیٰ کے یہاں جہنم کے قیدی آ زاد کئے جاتے ہیں اور ہر مسلمان کے لئے ہر شب و روز میں ایک دُعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ رمضان المبارک کا یہ درمیانی عشرہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ا طاعت گزار بندوں کے لئے بڑے انعام و اکرام اور غنیمت کی چیز ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ویسے تو تمام لوگوں کے لئے غفورالرحیم ہے ہی، مغفرت و بخشش طلب کرنے والے لوگوں کی بہت قدر دان ہے لیکن رمضان المبارک کے درمیانی عشرہ میں اس کی جانب سے مغفرت وبخشش کا دریا بہایا جاتا ہے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس مبارک مہینے کا درمیانی حصہ مغفرت کا ہے۔‘‘
آپؐ کے اس فرمان کی روشنی میں ہم پر لازم ہے کہ رمضان المبارک کے تقاضے اور اُس کے آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اہتمام کے ساتھ روزے رکھیں، اپنے گناہوں، اپنی کوتاہیوں اور اپنی خامیوں کو یاد کرکے سچے دل سے توبہ کریں اور استغفار کی کثرت کریں۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی کثرتِ استغفار کی تلقین کی گئی ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے مبارک عمل سے بھی اُمّت کو استغفار کی طرف متوجّہ فرمایا۔ ارشاد فرمایا، ’’اے لوگو! اللہ کے سامنے توبہ کرو، بے شک مَیں بھی دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔‘‘(صحیح مسلم)۔ ابنِ ماجہ کی حدیث ہے کہ’’ جو شخص استغفار کو خود پر لازم کر لے، (یعنی کثرت سے استغفار کرے) تو اللہ تعالیٰ اُسے ہر رنج و غم سے نجات دیتا ہے اور اُس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اُسے ایسی جگہ سے روزی عطا کرتا ہے، جو اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔‘‘ (سنن ابی داؤد)
ایک اور موقعے پر ارشاد فرمایا،’’اگر کسی بندۂ مومن کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کے خوف سے ندامت کے آنسو نکل آئیں، جو مکھی کے سر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، تو اللہ تعالیٰ اُس چہرے پر جہنّم کی آگ حرام فرما دیتے ہیں۔‘‘مشکوٰۃ شریف میں یوں روایت ہے کہ’’اللہ کے نزدیک کوئی چیز دو قطروں سے زیادہ محبوب نہیں۔
ایک وہ آنسو کا قطرہ، جو اللہ کے خوف سے نکلا ہو اور دوسرا خون کا وہ قطرہ، جو اللہ کے راستے میں گرا ہو۔‘‘ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا،’’ جب بندہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہے، تو اُس کی توبہ سے ربّ ِ کریم اُس سے زیادہ راضی (اورخوش) ہوتے ہیں، جتنا تم میں سے کوئی (اُس وقت ہوتا ہے جب وہ) اپنی سواری پر جنگل بیاباں میں جارہا ہو، اچانک وہ سواری اُس سے گم ہوجائے، اِس حال میں کہ اُس پر اُس کا کھانا پینا (بھی) رکھا ہو، وہ اُس (کی واپسی) سے مایوس ہوجائے اور ایک درخت کے سائے میں آکر لیٹ جائے، ابھی وہ اُس حال میں ہو کہ دفعتاً دیکھے کہ وہ سواری اُس کے پاس کھڑی ہے، وہ اُس کی لگام تھام لے، پھر مسرّت و شادمانی کے عالم میں یہ کہہ بیٹھے، ’’اے اللہ! آپ میرے بندے اور مَیں آپ کا ربّ۔‘‘ (یعنی خوشی کے باعث غلط جملہ کہہ دے)۔‘‘(صحیح مسلم)
استغفار کی اِس قدر اہمیت ہے کہ اسے بندۂ مومن کے لیے خوش خبری قرار دیا گیا ہے، چناں چہ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ’’(قیامت کے روز) جو شخص اپنے نامۂ اعمال میں استغفار کی کثرت پائے، اُس کے لیے خوش خبری ہے۔‘‘ (سنن ابنِ ماجہ)۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا،’’بے شک شیطان نے (حق تعالیٰ سے) کہا تھا، ’’اے میرے ربّ! تیری عزّت کی قسم! مَیں ہمیشہ تیرے بندوں کو گم راہ کرتا رہوں گا، جب تک اُن کی روحیں اُن کے جسموں میں موجود رہیں گی۔‘‘ (جواب میں) اللہ ربّ العالمین نے ارشاد فرمایا،’’میری عزّت کی قسم! میرے جلال کی قسم! میرے بلند مرتبے کی قسم! جب تک میرے بندے مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے، مَیں اُنہیں معاف کرتا رہوں گا۔‘‘
ایک طرف توبہ استغفار کی اِس قدر اہمیت و ضرورت ہے، تو دوسری جانب ہمیں گناہوں کو بخشوانے کے مواقع بھی پوری طرح دست یاب ہیں کہ ہمیں ماہِ رمضان کی مبارک فضائیں میسّر ہیں۔ لہٰذا، اِس موقعے کو کسی صُورت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اِس ضمن میں یہ معروف حدیثِ مبارکہ بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے، جس کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ صحابۂ کرامؓ کو منبر کے قریب آنے کا فرمایا۔
حضرت کعبؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حاضر ہوگئے، جب آپﷺ نے منبر کے پہلے درجے پر قدم رکھا، تو فرمایا،’’ آمین۔‘‘ جب دوسرے پر قدم رکھا، تو پھر فرمایا،’’ آمین۔‘‘ جب تیسرے درجے پر قدم رکھا، تو ایک بار پھر فرمایا،’’ آمین۔‘‘ جب آپﷺ خطبے سے فارغ ہو کر نیچے تشریف لائے، تو ہم نے عرض کیا کہ’’ ہم نے آج آپ سے (منبر پر چڑھتے وقت) ایسی بات سُنی، جو پہلے کبھی نہ سُنی تھی۔‘‘
آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اُس وقت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے (جب مَیں نے منبر کے پہلے درجے پر قدم رکھا تو) اُنہوں نے کہا کہ’’ ہلاک ہو جائے وہ شخص، جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا، پھر بھی اُس کی مغفرت نہ ہوئی‘‘، مَیں نے کہا،’’آمین۔‘‘ پھر جب مَیں نے دوسرے درجے پر قدم رکھا، تو اُنہوں نے کہا،’’ ہلاک ہو جائے، وہ شخص جس کے سامنے آپﷺ کا ذکر ہو اور وہ درود نہ بھیجے‘‘، مَیں نے کہا،’’ آمین۔‘‘
جب مَیں تیسرے درجے پر چڑھا، تو اُنہوں نے کہا،’’ ہلاک ہو وہ شخص، جس کے سامنے اُس کے والدین یا اُن میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچے اور وہ اُس کو جنّت میں داخل نہ کروائیں(یعنی وہ اُن کی خدمت و فرماں برداری کرکے ثواب نہ حاصل کر پائے)، تو مَیں نے کہا، ’’آمین۔‘‘اِس حدیثِ مبارکہ میں اُن افراد کے لیے سخت وعید اور تنبیہ ہے، جو ماہِ صیام میں بھی اپنے ربّ کو منانے میں ناکام رہیں، حالاں کہ اُسے منانا تو سب سے آسان کام ہے۔
وہ تو اپنے بندوں سے ستّر ماؤں سے بھی بڑھ کر محبّت کرتا ہے اور اُس کی محبّت و رحمت تو یہ ہے کہ حضرت انس بن مالک اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزّوجل فرماتا ہے،”جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو مَیں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے، تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے، تو مَیں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔‘‘( بخاری شریف)
رمضان المبارک کے دوسرے عشرے سے فائدہ اُٹھا کر اپنے گناہوں، کوتاہیوں، خطاؤں اور لغزشوں سے تائب ہوکر اُس کی جانب سے مغفرت اور بخشش کا پروانہ حاصل کرسکتا ہے۔ دوسرا عشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں روحانیت اور عبادت کا کیا مقام ہونا چاہیے، اور یہ کہ اللہ کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے اس کی رضا کی کوشش کرنی چاہیے۔