• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رمضان کریم انفاق فی سبیل اللّٰہ کا مہینہ

علّامہ ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر

حلال مال سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا محض ایک مالی عمل نہیں بلکہ یہ ایمان، یقین، تقویٰ، اخلاص اور بندگی کا وہ عظیم مظہر ہے جس کے ذریعے انسان اپنے رب کے قرب، اس کی رضا اور آخرت کی کامیابی کو حاصل کرتا ہے، قرآن مجید میں بار بار ان لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے جو اپنے پاکیزہ اور حلال رزق میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ‘‘اے ایمان والو! اپنی پاک کمائی میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے خرچ کرو’’یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں وہی صدقہ اور انفاق قابل قبول ہے جو حلال ذرائع سے کمایا گیا ہو، کیونکہ حرام مال میں نہ برکت ہے نہ قبولیت، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول فرماتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حلال مال سے کیا گیا انفاق انسان کے دل کو نور، اس کے رزق کو برکت اور اس کی زندگی کو سکون عطا کرتا ہے۔

قرآن میں ایسے لوگوں کی مثال اس دانے سے دی گئی ہے جو سات بالیاں اگاتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں، یعنی ایک نیکی سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھا دی جاتی ہے، یہ محض عددی اضافہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے اس بندے کے مقام اور مرتبے کی بلندی کا اعلان ہے۔ 

رمضان المبارک کا مہینہ اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ نزولِ قرآن، تقویٰ، صبر اور انفاق کا مہینہ ہے، نبی کریم ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہو جایا کرتے تھے اور آپ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی زیادہ ہوتی تھی، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ رمضان میں حلال مال سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا عام دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اجر و ثواب کا باعث بنتا ہے۔

قرآن میں یہ بھی فرمایا گیا کہ جو لوگ دن رات، چھپ کر اور علانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وعدہ اس بات کی ضمانت ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ انسان کو دنیا کے خوف اور آخرت کے غم سے نجات دلاتا ہے، حلال مال سے خرچ کرنے والا دراصل اللہ پر اپنے توکل اور یقین کا اظہار کرتا ہے کیونکہ بظاہر مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے لیکن اللہ کے وعدے کے مطابق وہ بڑھتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا بلکہ بڑھاتا ہے، یہ اضافہ کبھی ظاہری صورت میں رزق کی وسعت بن کر ظاہر ہوتا ہے اور کبھی باطنی صورت میں دل کے اطمینان اور زندگی کی آسانیوں کی شکل میں، قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انفاق کے بعد احسان جتانا یا تکلیف دینا نیکی کو ضائع کر دیتا ہے، لہٰذا بلند مقام وہی لوگ پاتے ہیں جو خاموشی، عاجزی اور خلوص کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ 

ایسے لوگ دنیا میں بھی عزت پاتے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے جنت کے اعلیٰ درجات تیار کیے گئے ہیں، ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والا اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا جب کہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا، یہ مقام اس بات کی دلیل ہے کہ حلال مال سے کیا گیا انفاق انسان کے لیے نہ صرف دنیا میں تحفظ بلکہ آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ 

رمضان میں روزہ انسان کو بھوک اور پیاس کا احساس دلاتا ہے تاکہ وہ غریبوں اور محتاجوں کی تکلیف کو سمجھے اور دل کھول کر ان کی مدد کرے، یہی وجہ ہے کہ زکوٰۃ، صدقات اور فطرانہ اسی مہینے میں ادا کرنے کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے، قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے محبوب مال میں سے خرچ کرتے ہیں، یعنی وہ چیزیں جو انہیں عزیز ہوتی ہیں۔ 

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قدر اس انفاق کی ہے جس میں قربانی کا جذبہ شامل ہو، حلال مال سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے دراصل معاشرے میں عدل، اخوت اور ہمدردی کو فروغ دیتے ہیں، ان کا عمل غربت کے خاتمے، دلوں کے جوڑنے اور معاشرتی توازن کو قائم رکھنے کا سبب بنتا ہے، یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اللہ کے دوست ہیں اور ان پر نہ خوف ہے نہ غم۔

اگر ہم اس بابرکت مہینے میں حلال کمائی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈال لیں تو یہ عمل ہماری پوری زندگی کو بدل سکتا ہے، کیونکہ یہ صرف مال دینے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، حرص اور دنیا کی محبت کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے کا نام ہے، اور یہی بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے جس کے بدلے اللہ اپنے بندے کو وہ عزت، سکون اور دائمی کامیابی عطا فرماتا ہے جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔

اقراء سے مزید