• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روزے کے چند ضروری مسائل (گزشتہ سے پیوستہ)

تفہیم المسائل

(13) روزہ رکھنے کی صورت میں حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کی اپنی یا بچے کی صحت کے بگڑنے کا ظنِّ غالب ہو تووہ رمضان کا روزہ چھوڑ سکتی ہے ،لیکن اِس کی تلافی فدیے سے نہیں ہوگی، بلکہ بعد میں قضا روزے رکھنے ہوں گے۔ 

اِسی طرح ایامِ مخصوص کے دوران عورت روزہ نہیں رکھ سکتی ،ایام ختم ہونے پرغُسلِ واجب کرکے پاک ہوجائے اورچھوٹے ہوئے روزوں کے قضا روزے رکھے،اُن کی تلافی فدیے سے نہیں ہوگی۔

(14) جواں عمر حضرات روزے کے دوران بیوی کے ساتھ بوس وکنار سے اجتناب کریں، اگرچہ یہ جائز ہے، لیکن شَہوت کے غلبے کے پیش نظر روزے کے فاسد ہونے کا خدشہ رہتا ہے، اس لیے احتیاط کرنا بہتر ہے۔

(15) جس نے بشری کوتاہی کی بناء پر روزہ نہ رکھا یا رکھنے کے بعد عذر کی بناء پر توڑ دیا، اس پر صرف قضا لازم ہے، البتہ جس نے روزہ رکھ کر کسی عذر کے بغیر جان بوجھ کر توڑ دیا تو اس پر کفّارہ لازم ہے، یہ ساٹھ روزے مسلسل رکھنا ہے اور ایک روزے کی قضا بھی لازم ہے۔ اگر کوئی ساٹھ مسلسل روزے رکھنے پر قادر نہ ہو تو وہ ساٹھ مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا اُس کے مساوی رقم دے۔

(16) غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، چغلی کھانا، کسی پر بہتان لگانا، کسی کی عیب جوئی کرنا، لوگوں کو ایذا پہنچانا عام حالات میں بھی منع ہیں اور روزے کی حالت میں ان کی ممانعت وحُرمت اور زیادہ ہوجاتی ہے۔ اِن باتوں سے فقہی اعتبار سے تو روزہ فاسد ہونے کا حکم نہیں لگایا جاتا، لیکن روزہ مکروہ ہوجاتا ہے اور روزہ دار روزے کے کامل اجر سے محروم ہوجاتا ہے۔

(17) گزشتہ رمضان کے روزوں کی قضا اس کے ذمے باقی ہے، تو اگلا رمضان آنے سے پہلے اس کی قضا رکھے۔ تمام فقہائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ماہِ رمضان کے روزوں کی قضا علیٰ الفور واجب نہیں ہے، لیکن بلا عذر اتنی تاخیر کرنا گناہ ہے کہ اگلا ماہِ رمضان شروع ہوجائے، ’’ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس پر گزشتہ رمضان کے روزوں کی قضا باقی ہے تو اس کے اس رمضان کے روزے قبول نہیں ہوں گے اورجس نے نفلی روزے رکھے ، جبکہ اس پر رمضان کے روزوں کی قضاباقی تھی، اس کے نفلی روزے قبول نہیں ہوں گے حتیٰ کہ وہ قضا روزے رکھ لے ،(مسنداحمد: 8621)‘‘۔

(18) رمضان المبارک کے قضا روزوں کا کسی وقفے کے بغیر لگاتار رکھنا ضروری نہیں ہے، بیچ میں وقفہ بھی کرسکتے ہیں۔ نیز یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ گرمی کے روزوں کی قضا گرمی کے دنوں میں رکھی جائے، نہ یہ ضروری ہے کہ سردیوں میں قضاشدہ روزوں کی قضا سردی کے موسم میں رکھی جائے، اس میں شریعت نے وسعت دی ہے اور آسانی رکھی ہے ،سال کے دوران اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی ایام میں قضا روزے رکھ سکتے ہیں۔

(19) اگر ماہِ رمضان میں گرمی ناقابلِ برداشت ہوجائے ،جسے ’’Heat Stroke‘‘ (گرمی کا جھٹکا)یا ’’Heat Wave‘‘ کہتے ہیں، بہت زیادہ پسینہ نکلنے کی وجہ سے انسانی جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی واقع ہوجاتی ہے، اسے طبّی زبان میں Dehydration کہتے ہیں۔ 

ہماری رائے میں ایسے حالات میں جب کسی شخص کے لیے بیماری کے خطرناک بن جانے یا روزے دار کی جان تلف ہونے کا ظَنِّ غالب ہوجائے تو روزہ توڑنے یا چھوڑنے کی شرعی رخصت پر عمل واجب سمجھا جائے، کیونکہ اس کی تائید میں احادیثِ مبارَکہ، ائمۂ مجتہدین اور فقہائے امّت کے اقوال موجود ہیں ، ایسی صورت میں روزہ توڑنے پر صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا، اس حوالے سے چند احادیث پیشِ خدمت ہیں:

(۱) رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’ اللہ نے تمہارے لیے جو رخصت دی ہے ،اُس رخصت پر عمل کرنا تم پر واجب ہے، (مسلم:1115)‘‘، (۲)’’ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو قبول نہیں کیا، اُسے میدانِ عرفات کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوگا،(مسند احمد:5392)‘‘ ، (۳)’’ بے شک اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی معصیت کو ناپسند فرماتا ہے، اسی طرح اپنی دی ہوئی رخصت پر عمل کرنے کو پسند فرماتا ہے،(مسند احمد : 5866)‘‘۔علّامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :’’ اگر روزہ رکھنے کی صورت میں ہلاکت کا اندیشہ ہو، تو روزہ توڑنا واجب ہے،(ردالمحتار، جلد6،ص:356)‘‘۔

علّامہ علاء الدین ابوبکر کاسانی حنفی لکھتے ہیں: ’’امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں : اور (عذر کی بناءپر) روزہ توڑنے کی مُطلق اباحت بلکہ وجوب اُس صورت میں ہے کہ روزے دار کی ہلاکت کا اندیشہ ہو، کیونکہ اس صورت میں روزہ رکھنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم رکھنے کے لیے ہے جوکہ واجب ہے، کیونکہ اس حالت میں روزے کا وجوب باقی نہیں رہتا، بلکہ اس حالت میں روزہ رکھنا حرام ہے، تو ایسی صورت میں روزہ توڑنا مباح بلکہ واجب ہوگا،(بدائع الصنائع، ج:2،ص: 142)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید