• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانی بالوں کی خرید و فروخت اور ان کے استعمال کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: آج کل انسانی بالوں کے استعمال کی مختلف صورتیں سامنےآرہی ہیں، اس لیے ان بالوں کی خرید و فروخت بھی ہورہی ہے۔ 

معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا انسانی بالوں کی خرید و فروخت جائز ہے؟ اگر بے احترامی سے بچتے ہوئے اپنے ہی گھر میں انہیں استعمال کیا جائے، جیسے تکیے میں بھر دینا، کیا یہ جائز ہوگا؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکرم اور محترم بنایا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور ہم نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو عزت دی ۔‘‘ (سورۃالاسراء: 70) اسی تکریم اور تعظیم کے پیشِ نظر انسان کے اعضاء اور اجزاء ، چاہے وہ جسم سے متصل ہوں یا علیحدہ، کی تکریم و تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، اگر انسانی عضو یا جزء مثلاً ناخن، بال وغیرہ جسم سے علیحدہ ہوجائیں تو حکم یہ ہے کہ انہیں دفنایا جائے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علیٰ مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ،ص:527،دارالکتب العلمیۃ)

لہٰذا انسانی بالوں کی خریدو فروخت اور اس سے حاصل ہونے والا نفع حلال نہیں، کیوں کہ یہ شریعت کی نگاہ میں مال نہیں، جب کہ خرید وفروخت کے معاملے کی درستی کے لیے ضروری ہے کہ بیچی جانے والی چیز مال ہو۔ 

نیز علامہ فخر الدین زیلعی رحمہ اللہ نے انسانی بالوں کی خرید و فروخت کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بالوں میں دوسرے کے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت فرمائی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں نے انسانی بالوں سے انتفاع حاصل کیا ہے، جس کی وجہ سے ایک مکرم چیز کی توہین ہوئی ہے۔ (تبیین الحقائق، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد 4/ 51 ط: دار الکتاب الاسلامی) 

چوں کہ انسانی بالوں سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنا درست نہیں، لہٰذا انہیں گھر میں تکیہ وغیرہ میں استعمال کرنا بھی جائز نہیں، کیوں کہ اسے استعمال میں لانا ہی شرعی نکتہ نظر سے اس کی بے حرمتی ہے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید