• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غیر مسلموں کیلئے حرام جانور کا سالن بنانے اور اس کی تنخواہ کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: میرا ایک دوست غیر مسلم ملک میں باورچی ہے، وہاں غیر مسلموں کی اکثریت کی وجہ سے ان کے لیے مُردار اور حرام جانوروں کا سالن بھی بنانا پڑتا ہے، خاص طور پر خنزیر کے گوشت کا سالن بھی بنانا پڑتا ہے، اس کے گزر بسر کا یہی واحد ذریعہ ہے۔ شرعی لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس کی تنخواہ کا کیا حکم ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ ایک مسلمان کے لیے جس طرح خنزیر، دیگر حرام جانور، غیر مذبوحہ یا مردار جانور اور دیگر حرام اشیاء کھانا، پینا حرام ہے، اسی طرح حرام چیز دوسروں کو کھلانا پلانا، پکانا یا اسے کھانے کے قابل بنانے کے لیے کسی طرح کی خدمت انجام دینا بھی ناجائز ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اور ایک دوسرے کی نیک کام اور پرہیزگاری میں مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی پر مدد نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو، بےشک، اللہ کا سخت عذاب ہے۔" (سورۃ المائدہ: 2)

صحیح بخاری میں جابر عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہﷺ کو مکہ مکرمہ میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا: بےشک، اللہ اور اس کے رسولﷺ نے شراب، مُردار، خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت حرام کردی ہے۔ 

آپﷺ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسولﷺ ، مردار جانوروں کی چربی کا کیا حکم ہے؟ اس لیے کہ اس سے کشتیوں کو لیپا جاتا ہے، اور جلد/ چمڑے پر اس سے تیل لگایا جاتا ہے اور چراغ روشن کیے جاتے ہیں؟ 

آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! وہ بھی حرام ہے۔ پھر آپ ﷺنے اس موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ کرے! اللہ تعالیٰ نے جب ان پر جانوروں کی چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچا اور اس کی قیمت کو کھایا۔ ( کتاب البيوع، باب بيع الميتۃ والأصنام، 2: 779، رقم: 2121،ط: دار ابن کثير اليمامۃ)

لہٰذا آپ کے دوست کے لیے اس طرح کی ملازمت جائز نہیں ہے جس میں حرام اشیاء تیار کرنی پڑتی ہیں یا حرام اشیاء دوسروں کے سامنے پیش کرنی پڑتی ہیں۔ جامع ترمذی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کے حوالے سے دس لوگوں پر لعنت بھیجی ہے: شراب کشید کرنے والا، شراب کشید کرانے والا، شراب پینے والا، شراب اٹھاکر لے جانے والا، جس کی طرف شراب اٹھا کر لائی جائے، شراب پلانے والا، شراب بیچنے والا، شراب کی قیمت کھانے والا، شراب خریدنے والا اور جس کے لیے شراب خریدی جائے۔ (أبواب البیوع، باب ما جاء فی بیع الخمر و النھی عن ذلک، ج:3، ص:139، ط:الرسالۃ)

البتہ اگر وہ صرف حلال اشیاء ہی پکائے اور حلال اشیاء ہی دوسروں کے سامنے پیش کرے تو ایسی صورت میں ملاز مت کرنا جائز ہوگا۔ اگر آپ کے دوست کو لازمی طور پر حرام اشیاء پکانی پڑتی ہیں، یا شراب وغیرہ حرام اشیاء کھانے کے لیے پیش کرنی پڑتی ہیں، اور اس جگہ کے مالکان صرف حلال اشیاء پکانے اور حلال چیزیں ہی کھانے کے لیے پیش کرنے کی شرط پر ملازم نہیں رکھتے تو آپ کے دوست کو چاہیے کہ جلد از جلد متبادل حلال روزگار تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے، اور جب تک کہیں حلال روزگار میسر نہیں ہوجاتا اور اس جگہ کام کرنا ناگزیر ہو تو بقدرِ کفایت اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدن سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہوگی۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید