اسلام آباد( عاطف شیرازی)اوگرا کا گیس قیمتوں کے فارمولے پر نظرثانی کا فیصلہ،گیس قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی کے لیے شرا کت داروں سے مشاورت شروع کر دی ۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے موجودہ گیس قیمتوں کے تعین کے فارمولے کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جو اس وقت مقررہ اثاثوں پر منافع (ریٹرن آن فکسڈ ایسٹس) کی بنیاد پر ہے۔ یہ جائزہ موجودہ گیس سیکٹر کی صورتِ حال اور مارکیٹ لبرلائزیشن کو مدِنظر رکھتے ہوئے لیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے اوگرا کو دو سرکاری گیس یوٹیلیٹیز کی تنظیمِ نو کی ذمہ داری سونپی تھی، جس کے تحت مقررہ اثاثوں پر منافع کے نظام کو ختم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حکام کے مطابق ریگولیٹر نے قیمتوں کے فارمولے کے جائزے کے لیے کنسلٹنسی فرم کے پی ایم جی (KPMG) کی خدمات حاصل کیں، جس نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔اوگرا نے گیس قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے اور اس ضمن میں جمعہ کے روز اسلام آباد میں عوامی سماعت مقرر کی گئی ہے تاکہ مختلف فریقین کی آراء سنی جا سکیں۔اس وقت اوگرا نے 2018 سے گیس یوٹیلیٹیز یعنی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کو ہر مالی سال میں آپریشن میں موجود اوسط خالص مقررہ اثاثوں کی مالیت پر مارکیٹ بیسڈ ریٹ آف ریٹرن کی اجازت دی ہوئی ہے۔اوگرا ذرائع کے مطابق طلب و رسد، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مارکیٹ لبرلائزیشن اور عالمی سطح پر کی جانے والی بینچ مارکنگ سمیت تازہ ترین گیس سیکٹر ڈائنامکس کو مدِنظر رکھتے ہوئے ریٹ آف ریٹرن (ROR) پر مبنی موجودہ گیس قیمتوں کے فارمولے کا آزاد کنسلٹنٹ کے ذریعے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جیسا کہ ٹرمز آف ریفرنس میں طے ہے۔