• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرپشن اختیارات سے تجاوز اور غفلت میں ملوث FIA کے 19 افسران و اہلکاروں کو سزائیں

کراچی( ثاقب صغیر )کرپشن،اختیارات سے تجاوز اور غفلت میں ملوث ایف آئی اے کے 19افسران واہلکاروں کو سزائیں سنا دی گئیں۔ ایف آئی اے کے مطابق انسپکٹر ماریہ نياز کو غیر قانونی طور پر سرکاری رہائش گاہ پر قبضہ کرنے اور غیر حاضری کے الزامات پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ سب انسپکٹر کاشف ریاض اعوان کو غیر قانونی اعضاء فروشی میں ملوث گروہ کو تحفظ دینے کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ سب انسپکٹر تصدق حسین اور سب انسپکٹر احمد وقار کو غیر قانونی چھاپے اور ناقص انکوائری کرنے کے الزامات پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ کانسٹیبل آصف اللہ دتہ کو غیر قانونی چھاپہ مارنے اور بھتہ خوری کے الزام میں ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ ٹیکنیکل اسسٹنٹ عنایت اللہ کو غیر زمہ داری اور غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس کے الزامات پر ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ انسپکٹر محمد ارسلان مسعود خان اور انسپکٹر ادریس خان کو انکوائری میں رشوت طلب کرنے کے الزام میں پے اسکیل اسٹیج میں تنزلی کی سزائیں سنائی گئیں۔ سب انسپکٹر سہیل احمد کو دفتری امور میں کوتاہی کرنے پر ایک سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا سنائی گئی۔ سب انسپکٹر شاذمہ شبیر، شبانہ شمشیر، عمر فاروق اور اے ایس آئی فرحان اصرار کو غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس پر 2 سال کے لیے انکریمنٹ روکنے کی سزا سنائی گئی۔ کانسٹیبل محمد شاکر، محمد آصف، محمد زاہد اقبال، مدثر سعید اور عدیل احمد کو غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس پر ایک سال کے لیے انکریمنٹ روکنے کی سزا سنائی گئی۔ٹیکنیکل اسسٹنٹ غلام خان کو دفتری احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر سزائے تنبیہ دی گئی۔ ایف آئی اے کے مطابق محکمانہ احتساب کا مقصد شفافیت، دیانتداری اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنا ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ غفلت برتنے والے افسران کو قرار واقعی سزائیں دی جارہی ہیں۔
اہم خبریں سے مزید