• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکیہ، پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہشمند

کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکیہ، پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہشمندہے، نئی سیکورٹی صف بندی مشرق وسطی اور اس سے آگے بھی طاقت کا توازن بدل دیگی‘ انقرہ کے اسٹریٹجک حلقوں میں دفاعی شراکت کو تقویت دینے پر اتفاق رائے ہے ۔ ان معاملات سے واقف افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذاکرات اب حتمی مرحلے میں ہیں اور معاہدے کا قوی امکان ہے‘مذکورہ افراد کا کہنا ہے کہ اس توسیعی اتحاد کا قیام منطقی نظر آتا ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اورحتیٰ کہ افریقہ میں ترکی کے مفادات تیزی سے سعودی عرب اور پاکستان کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ترکیہ سعودی عرب اور ایٹمی صلاحیت کے حامل پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس پیش رفت سے ایک نیا سکیورٹی بندوبست سامنے آ سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔یہ دفاعی معاہدہ گزشتہ سال ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے اور ترکیہ نیٹو میں امریکا کے بعد سب سے بڑی فوجی قوت رکھتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکیہ اس معاہدے کو سکیورٹی اور ڈیٹیرنس کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی قرار دیتا ہے‘ایسے وقت میں جب امریکا کے قابلِ اعتماد ہونے کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک کے ساتھ مضبوط فوجی تعلقات ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی بھی زیرِ سوال رہی ہے۔انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو سے وابستہ اسٹریٹجسٹ نحت علی اوزجان کے مطابق، سعودی عرب اس اتحاد میں مالی طاقت فراہم کرتا ہے، پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت موجود ہے، جبکہ ترکیہ کے پاس فوجی تجربہ ہے اور اس نے اپنی دفاعی صنعت کو ترقی دی ہے۔ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ سعودی عرب میں ہفتے کے اختتام کے باعث حکام فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔اگر ترکیہ اس دفاعی اتحاد میں باضابطہ طور پر شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کی عکاسی کرے گا، کیونکہ دونوں ممالک ماضی میں حریف رہ چکے ہیں۔ برسوں کی کشیدگی کے خاتمے کے بعد، دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے پر کام کر رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں دونوں کے درمیان تاریخ کی پہلی بحری ملاقات بھی ہوئی۔ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے قریبی فوجی تعلقات قائم ہیں۔

اہم خبریں سے مزید