کراچی (رفیق مانگٹ) متحدہ عرب امارات کی لگژری رہائشی پراپرٹی مارکیٹ مضبوط اور طویل مدتی تیزی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں عالمی دولت کی آمد، سیاسی استحکام اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں نے اس شعبے کو مزید تقویت دی ہے۔ عالمی دولت کا رخ امارات کی جانب،مالیت 2030تک200کھرب 67ارب روپے متوقع، داماک اور الدار پراپرٹیز جیسے بڑے ڈویلپرز کے بڑے منصوبے لگژری مارکیٹ کو نئی سمت دے رہے ہیں،گولڈن ویزا اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں غیر ملکی خریداروں کیلئے کشش کا باعث ،پائیدار اور اسمارٹ ہوم خریداروں کی اولین ترجیح ہے۔عالمی تحقیقاتی ادارے مورڈور انٹیلیجنس کے مطابق یو اے ای کی لگژری رہائشی مارکیٹ کی مالیت 2025 میں127 کھرب 66ارب روپے( 45.11ارب ڈالر )رہی، جو 2030تک بڑھ کر 200کھرب 67ارب روپے ( 70.91ارب ڈالر) تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران دبئی اور ابوظہبی میں اعلیٰ درجے کی جائیدادوں کی فروخت کووڈ سے پہلے کی سطح سے تجاوز کر گئی، جہاں ریکارڈ قیمتیں، بڑھتے ہوئے لین دین اور بین الاقوامی امیر خریداروں کی مسلسل طلب نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ ایمار پراپرٹیز، سوبھا ریئلٹی، نخیل، داماک اور الدار پراپرٹیز جیسے بڑے ڈویلپرز کی جانب سے ماسٹر پلانڈ لگژری کمیونٹیز کی توسیع کو اس ترقی کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔