• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجلی کے مہنگے نرخ: اپٹما نے وزیر اعظم کو صنعتی تباہی سے خبردار کردیا

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)بجلی کے مہنگے نرخ: اپٹما نے وزیر اعظم کو صنعتی تباہی سے خبردار کردیا، اپٹما کا کہنا ہے کہ صنعتوں کے لیے بجلی کے موجودہ نرخ پہلے ہی خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی صنعتی تنظیم، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کو خبردار کیا ہے کہ بجلی کے نرخوں پر نظرثانی کا جاری عمل، اگر درست نہ کیا گیا، تو اس سے صنعتی مسابقت برآمدات اور گرڈ کے استحکام کو شدید اور دیرپا نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ 6 جنوری 2026 کو وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ کے نام لکھے گئے ایک باضابطہ خط میں، اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے متنبہ کیا کہ صنعتوں کے لیے بجلی کے موجودہ نرخ پہلے ہی خطے میں سب سے زیادہ ہیں، جو کاروباروں کو بندش، منتقلی یا نیشنل گرڈ سے علیحدگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اپٹما نے وزیر اعظم کو آگا ہ کیا کہ صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں پر اس وقت 131 ارب روپے کا کراس سبسڈیز کا بوجھ ہے، جو کراچی الیکٹرک کو شامل کرنے کے بعد بڑھ کر 160 ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ بوجھ (کراس سبسڈی) بی 3 کیٹیگری کے صنعتی نرخوں میں تقریباً 6.5 روپے فی کلو واٹ آور کا اضافہ کر دیتا ہے، جس سے پاکستان میں صنعتی بجلی کی قیمت تقریباً 12.5 امریکی سینٹ فی کلو واٹ آور تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے برعکس، برآمدات میں مقابلہ کرنے والی دیگر معیشتیںبشمول چین، بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنا اپنی صنعتوں کو 5 سے 9 سینٹ فی کلو واٹ آور کے درمیان بجلی فراہم کر رہی ہیں، جو کہ پاکستانی برآمدات کے لیے اخراجات کے لحاظ سے ایک ڈھانچہ جاتی نقصان پیدا کر رہا ہے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ جب تک صنعتوں پر عائد کراس سبسڈی کو ختم نہیں کیا جاتا، پاکستان کا برآمدی شعبہ غیر مسابقتی ہی رہے گا، چاہے شرح تبادلہ میں کتنی ہی تبدیلی کر لی جائے یا مراعاتی پیکجز دے دیے جائیں۔
اہم خبریں سے مزید