• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عدت کیس، عمران اور بشریٰ بی بی کی بریت کیلئے پارٹی نے ’’حکام‘‘ سے مدد مانگی تھی

انصار عباسی

اسلام آباد … معلوم ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے متنازع عدت کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کیلئے متعلقہ حکومتی حکام سے مدد طلب کی تھی۔ یہ ایک سرکاری مقدمہ تھا اور پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کی بریت کیلئے حکومت سے رابطہ کیا تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق، عدت کیس میں بشریٰ بی بی کے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، بیرسٹر سیف اور سینیٹر مشعال یوسف زئی دونوں فریقین کے درمیان پسِ پردہ ہونے والے رابطوں سے آگاہ ہیں۔ بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تبصرے سے انکار کر دیا۔ مشعال یوسف زئی نے بھی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدت کیس ’’انتہائی ناپسندیدہ ذوق‘‘ کا حامل تھا اور اس قدر کمزور تھا کہ طاقتور حلقوں کے اندر بھی اس پر اختلاف پایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنا سطحی مقدمہ تھا کہ میں اس پر بات بھی نہیں کرنا چاہتی۔ پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسف زئی بشریٰ بی بی کی ترجمان بھی رہ چکی ہیں اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے دی نیوز کو یہ بھی بتایا کہ بشریٰ بی بی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان یا پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی کی مخالف ہیں۔ موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے مشعال یوسف زئی نے کہا کہ ایک بیانیہ جان بوجھ کر تشکیل دیا گیا جس میں بشریٰ بی بی کو محاذ آرائی کی وجہ بنا کر پیش کیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی سمجھتی ہیں کہ تمام تنازعات حتیٰ کہ جنگیں بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوتی ہیں۔ مشعال یوسف زئی کے مطابق، بشریٰ بی بی کی رائے ہے کہ عمران خان اور دوسری جانب کے اردگرد موجود بعض افراد کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان تعلقات خراب رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی سخت گیر موقف کی حامل نہیں، وہ مفاہمت اور مذاکرات کی مضبوط حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتیں جو ان کے کردار یا عمران خان پر اُن کے مبینہ اثر و رسوخ کے حوالے سے پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہے، وہ اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کر سکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید