کراچی (نیوز ڈیسک) ایران میں نئے مظاہرے،کریک ڈائون، ہلاکتیں51تک پہنچ گئیں، شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کی شہری مراکز پر قبضے ، مزید احتجاج کی اپیل اورجلد وطن واپس آنیکا اعلان، تہران، مشہد، تبریز، قم اور ہمدان میں سڑکوں پر احتجاج، شاہی پرچم اور آتش بازی،انٹرنیٹ بند، کریک ڈاؤن میں متعدد زخمی بھی ہوئے ۔ایرانی حکام نے احتجاج کو بربریت قرار دیکر امریکا پر مداخلت کا الزام عائد کیا۔امریکا نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن مظاہروں کو ہوا نہیں دے رہا ہے ۔جمعہ کے روز امریکانے ایرانی وزیر خارجہ کو "خبطی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیل اور امریکا پر امریکا میں جاری احتجاجی لہر کو ہوا دینے کا الزام لگا کر حقیقت سے نظریں چرانے کی کوشش کی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ان سنگین اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کی ایک گمراہ کن کوشش ہے جن کا ایرانی حکومت کو اپنے ملک میں سامنا ہے۔"ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہرے اب بڑے شہروں میں شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں تہران، مشہد، تبریز، قم اور ہمدان سمیت کئی شہروں میں مظاہرین نے سڑکوں پر ریلیاں نکالیں اور شہری مراکز پر قبضے کی تیاری شروع کردی۔ مظاہروں کے دوران حکام نے ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کیا جس نے مظاہرین کے خلاف تشدد اور کریک ڈاؤن کو چھپانے کا امکان بڑھا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپس کے مطابق اب تک کم از کم 51 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، متعدد زخمی ہوئے ہیں اور سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کی آنکھوں پر جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی رپورٹس بھی موصول ہوئیں۔