کراچی (بابر علی اعوان) پولیو پر عالمی اداروں کی تشویشناک آڈٹ رپورٹ، حکومتِ سندھ کی خاموشی، تحقیقات اور ذمہ داران کا احتساب شروع نہ ہو سکا، پولیو پروگرام میں اصلاحات سے بھی گریز۔ اس حوالے سے وزیرِ اعلیٰ سندھ کا موقف جاننے کے لئے ان کے میڈیا کنسلٹنٹ عبدالرشید چنا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر صوبائی وزیرِ صحت سے موقف لیا جائے۔ صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا مؤقف جاننے کے لئے خود ان سے، ان کے پرنسپل سیکرٹری علی نواز چنا اور ترجمان میران یوسف سے رابطے کی کوشش کی گئی۔ انہیں ٹیلی فون کالز اور واٹس ایپ پیغامات بھی ارسال کئے گئے تاہم خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔تفصیلات کے مطابق عالمی اداروں کی تشویشناک بیرونی آڈٹ رپورٹ کے باوجود حکومتِ سندھ کی جانب سے تاحال پولیو پروگرام میں ناکامیوں پر کسی واضح احتسابی عمل کا آغاز نہیں کیا جا سکا، حالانکہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پولیو کے خاتمے کے حوالے سے ہمیشہ متحرک دکھائی دیتے رہے ہیں اور مہمات کے سلسلے میں متعدد اعلیٰ سطح اجلاسوں کی صدارت بھی کر چکے ہیں۔ رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد نہ کسی انکوائری کا اعلان کیا گیا اور نہ ہی ذمہ دار افسران کے خلاف کوئی عملی کارروائی سامنے آ سکی۔ عالمی آڈٹ رپورٹ کے مطابق پولیو پروگرام میں جن سنگین خامیوں، غلط ڈیٹا، کمزور نگرانی، ناقص منصوبہ بندی اور قیادت کی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 2025 کے کراچی بلاک آڈٹ کے نتائج تقریباً وہی ہیں جو 2023 میں شائع ہونے والی ’’کراچی میں پولیو پھیلاؤ کی ممکنہ وجوہات‘‘ سے متعلق رپورٹ میں سامنے آئے تھے۔ 2023 کی رپورٹ ایک واضح انتباہ تھی، جس میں پولیو مہمات کے معیار میں خطرناک خلا کی نشاندہی کی گئی تھی، مگر ان سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث وہی کمزوریاں دو سال بعد بھی برقرار رہیں۔ رپورٹ کے مطابق ماضی کی سفارشات کو نظرانداز کرنے سے نظامی خامیاں مزید گہری ہوئیں اور پروگرام مسلسل خطرے کی زد میں رہا۔ اس تناظر میں 3 اکتوبر 2025 کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہ وہ اجلاس بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ نے پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا اور ان کے موبائل فون سمز بند کرنے، قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹس معطل کرنے جیسے سخت اقدامات کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں پولیو ویکسین انکار سیل قائم کرنے، یونین کونسل کی سطح پر انکاری والدین کی فہرستیں مرتب کرنے اور رفیوزل کنورژن کمیٹی کو ہر مہم کے بعد فوری کارروائی کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔ تاہم عالمی آڈٹ رپورٹ نے اس سرکاری مؤقف پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں پولیو سے انکار کی شرح محض 1 سے 2 فیصد ہے، جبکہ اصل مسئلہ ٹیموں کا گھروں تک نہ پہنچنا، جلد بازی، غلط رپورٹنگ، ڈیٹا میں ہیرا پھیری، کمزور نگرانی اور پروگرام کی قیادت میں خامیاں ہیں۔