فیصل آباد (نمائندہ جنگ) جشن جون ایلیا کے دوسرے روز کا آغاز کتابوں کی رونمائی کے سیشن سے ہوا جس میں اصغر ندیم سید، عباس تابش، حمید شاہد اور حماد نیازی نے عبید اللہ علیم کی کتاب "اک زمانہ خواب کا"، عدیل زیدی کی کتاب "ایک منظر"، ناصر عباس نیئر کی کتاب "میرا داغستان جدید" اور عدنان بشیر کی کتاب "شام ابد کے گیت" سے متعلق اظہار خیال کیا۔ اس سے اگلا سیشن اصغر ندیم سید کی بطور ناول نگار شخصیت پر تھا جس میں اصغر ندیم سید نے ڈرامہ نگاری سے ناول نگاری کی جانب آنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اندر اٹھنے والے سوالوں کے جواب کی تلاش میں ناول نگاری کی طرف آئے۔ اس سیشن میں ناصر عباس نیئر، حمید شاہد اور قاضی علی ابوالحسن شریک گفتگو تھے اور انہوں نے اصغر ندیم سید کی ناول نگاری پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ معاشی امور سے متعلق سیشن کا عنوان “عمر گزرے گی امتحان میں کیا ۔ معیشت کا کیا بنے گا” تھا۔ اس سیشن میں ظفر مسعود نے کہا کہ اگر بنک حکومت کو قرض نہ دیں تو امور مملکت رک جائیں گے کیونکہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے جس کی وجہ سے حکومت کو قرض لینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ دستاویزی معیشت کاحصہ بن کر ٹیکس دیں تو حکومت کو بینکوں سے قرض نہیں لینا پڑے گا اور بینک انہیں بھی بخوشی قرض دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لٹریچر کے ذریعے عام آدمی کو معیشت کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر سمجھایا جا سکتا ہے بلکہ جس شخص کا ادب سے شغف ہے وہ معیشت سے متعلق بھی بہتر فیصلہ سازی کر سکتا ہے۔ فواد حسن فواد نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری وہاں آتی ہے جہاں مواقع ہوں، نظام ہو اور قانون پر عملدرآمد ہو۔ ہم کئی سال سے سن رہے ہیں کہ بہت سرمایہ آ رہا ہے لیکن اب ایف آئی سی ایس کے ہیڈ نے خود کہا ہے کہ ہمارے پاس ترقی کا کوئی روڈمیپ نہیں ہے۔ سرمائے اور سرمایہ دار کو قابل نفرت بنا دیا گیا ہے۔ کوئی خیرات میں سرمایہ کاری نہیں کرتا ہے۔ عدالتوں نے غلط فیصلے کرنے والوں کو جوابداہ بنانے کی بجائے سرمایہ لگانے والوں کو مجرم بنا کر پیش کیا ہے۔ کاظم سعید نے کہا کہ معیشت ہر آدمی سے جڑی ہوئی ہے اس کا مطلب ہے کہ دولت پیدا کرنا لیکن ہم نے ایسا کرنے والوں کو قابل نفرت بنا دیا ہے یہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم آج بھی وہی چیزیں ایکسپورٹ کر رہے ہیں جو 30 سال پہلے کر رہے ہیں اس سلسلے میں حکومت اور کاروباری اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔