• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرکاری اداروں کا قرض 9 ہزار 577 ارب روپے تک پہنچ گیا

اسلام آباد (این این آئی)مختلف سرکاری اداروں کے قرضوں کی مجموعی مالیت 9 ہزار 577ارب روپے تک پہنچ گئی، ایک سال میں خسارہ 300فیصد اضافے سے123ارب روپے ہوگیا، 2024-25ء میں سرکاری اداروں کی مجموعی آمدن 12.4 کھرب روپے رہی،منافع کمانیوالے اداروں کا منافع 13 فیصد کمی کیساتھ 709 ارب 90 کروڑروپے رہا،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث توانائی کے شعبے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کے اجلاس میں مالی سال25-2024 کے لئے سرکاری اداروں کی جامع کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی،رپورٹ کے مطابق آئل اینڈگیس ڈویلپمنٹ کمپنی نے 82.5 ارب،فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 53.5 ارب، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے 50 ارب جبکہ نیشنل پاورپارکس مینجمنٹ نے 37.4 ارب روپیمنافع کمایا،حکام کیمطابق فیسکو، گیپکو اورآئیسکوکا منافع حکومتی سبسڈی کی بدولت ممکن ہوا جس کے بغیر کئی تقسیم کار کمپنیاں خسارے میں رہیں۔خسارے میں چلنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات معمولی کمی کے باوجود 832 ارب 80 کروڑ روپے رہے،جبکہ مجموعی طور پر سرکاری اداروں کاخالص نتیجہ 122 ارب 90 کروڑ روپے خسارہ نکلا،جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 300 فیصد زیادہ ہے،بڑے نقصانات کابوجھ زیادہ تربجلی کی تقسیم کار کمپنیوں پرہے۔

اہم خبریں سے مزید