کراچی (ٹی وی رپورٹ)تجزیہ کاروں ڈاکٹر قندیل عباس اور بیرسٹر صفی اللہ غوری کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیان سے مظاہرین کو نقصان پہنچا، وینز ویلا کے عوام نائب صدر کے ساتھ ہیں جبکہ اپوزیشن چاہتی ہےامریکہ ملک کو سنبھالے،جبکہ بنگلہ دیشی صحافی ماہد عمران نے کہا کہ حسینہ واجد کی پارٹی کا الیکشن میں حصہ لینے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔تفصیلات کے مطابق پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار ڈاکٹر قندیل عباس نے کہا کہ ایرانی حکومت سمجھتی ہے بیرونی طاقتیں فساد کروا رہی ہیں جبکہ مغربی دنیا سمجھتی ہے کہ احتجاج پوری طرح مقامی سطح سے اٹھ رہے ہیں یہ دونوں باتیں وہاں موجود ہیں ۔اس وقت جو احتجاج ہو رہا ہے اس میں عوام کے تحفظات موجود تھے اور ہم جانتے ہیں کہ حال ہی میں امریکہ نے دباؤ بڑھایا تھا اور نئی پابندیاں لگائی گئی تھیں اوریہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایران میں ایکسپورٹس صفر پر لے کر آئیں گے اس وجہ سے اچانک ڈالر کے ریٹ میں بہت فرق آیا اور تاجر برداری روڈ پر نکلی ہے اور مثبت بات یہ سامنے آئی کہ سپریم لیڈر احتجاج کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوئے کہ ان کے تحفظات جائز ہیں اور ان کو ایڈریس کیا جانا چاہئے لیکن جو فساد برپا کر رہے ہیں ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے اس وقت شاید اسٹیٹ کو ان دونوں میں فرق کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔