پشاور(نیوز رپورٹر) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے بارودی مواد اور اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار ملزم عظمت کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر چار ضامنان کو تحویل میں لیکر انہیں جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔کیس کی سماعت اے ٹی سی جج ولی محمد خان نے کی۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوا ۔استغاثہ کے مطابق ملزم عظمت کو 24مارچ 2025کو بارودی مواد اور اسلحہ سمیت گرفتار کیا گیا تھا جس کے خلاف پولیس تھانہ سی ٹی ڈی پشاور میں مقدمہ درج کیا گیا بعد میں ملزم کو عدالت نےضمانت پر رہا کیا تھا تاہم رہائی کے بعد ملزم عدالت میں پیش نہیں ہو رہا تھا جبکہ ضامنان آفتاب گل ، محمد مصطفی ، آصف خان اور فیضان علی عدالت میں پیش نہیں ہو رہے تھے۔ چاروں ضامنان سرکاری ملازم ہے جو دہشتگردی کے مقدمے میں نامزد ملزم کی ضامن بنے تھے ۔پراسیکیوشن کے مطابق ملزم ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اب عدالت میں پیش نہیں ہورہا ہے ، عدالت نے ملزم کے ضامنان کو ملزم پیش کرنے یا دو دو لاکھ روپے مچلکے جمع کرنے کا حکم دیا مگر اس کے باوجود ضامنان ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کر سکیں اور نہ ہی دو دو لاکھ روپے جمع کئے۔ جس پر عدالت نے چاروں ضامنان کو تحویل میں لیکر انہیں جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کردیئے اور قرار دیا کہ جب تک یہ 2,2 لاکھ روپے جمع نہیں کرتے تب تک یہ جیل میں رہینگے۔