• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خاتون پر مبینہ تشدد اور اسے ذہنی اذیت پہنچانے کی انکوائری کا حکم

پشاور (نیوزرپورٹر) پشاور کی مقامی عدالت نے خاتون پر مبینہ تشدد اور اسے ذہنی اذیت پہنچانے کے خلاف دائر درخواست پر یونیورسٹی ٹاون پولیس کو خاتون کے شوہر و گھر کے دیگر افراد پر عائد الزمات کی انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج عمران اللہ خان نے خواتین کیخلاف گھریلو تشدد (پری وینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2021 کے تحت دائر درخواست کی سماعت کی جس میں مسمی (ح) اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔دوران سماعت متاثرہ خاتون کے وکیل حافظ زین رشید ایڈوکیٹ نے بتایاکہ ان کی موکلہ کی شادی اپریل 2025میں طے پائی تاہم شادی کے بعد اسے مختلف طریقوں سے ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا،ان کو جہیز و دیگر گھریلو تنازعات کی بناءپر سسرال والے نہ صرف گالم گلوچ و تشدد کا نشانہ بناتے بلکہ اسے مسلسل ذہنی اذیت دے رہے تھے اور اس کا جہیز بھی قبضے میں لیا ۔ ان مظالم سے تنگ آکر خاتون نے عدالت میں درخواست دی ہے تاکہ ملزمان کیخلاف مذکورہ قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ اس دوران ضابطہ فوجداری کی دفعہ 200کے تحت مدعیہ کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا جبکہ عدالت نے کیس سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے ٹاون پولیس کو احکامات دیئے کہ وہ کیس میں نامزد متاثرہ خاتون کے شوہر، سسر، ساس و نند کیخلاف گھریلو تشدد کے کیس میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کریں تاہم گزشتہ سماعت پر انکوائری رپورٹ پیش نہ ہونے پر عدالت نے 17جنوری تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونیکی صورت میں پولیس کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
پشاور سے مزید