پیرس، لندن ، واشنگٹن ، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام آزادی کی جانب دیکھ رہے ہیں، ان کی مدد کیلئے تیار ہیں، ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز ’جائز اہداف‘ تصور کئے جائیں گے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پرتشدد مظاہروں کے حوالے سے کہا ہے کہ بیرون ملک سے دہشت گردوں کو ایران لایا گیا، امریکا اور اسرائیل ایران میں عدم استحکام کیلئے مظاہرین کو تشدد پر اکسا رہے ہیں،اسرائیلی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے 10 جنوری کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا ہے،امریکی مداخلت کے پیش نظر اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر شہروں میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے ،امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500سے بڑھ گئی ہیں،ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 114سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں،شہداء کیلئے تین روزہ سوگ کا اعلان،تہران میں برطانوی سفیر کی طلبی،ترکیہ نےایرانی سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرے کو روک دیا۔اسرائیلی ویب سائٹ دی یروشلم پوسٹ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل اس امکان کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف تحریک کی حمایت کیلئے مداخلت کر سکتا ہے،ایران میں جاری مظاہرے 14ویں روز بھی جاری رہے،امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک ہلاکتوں کی تعداد 466ہوچکی ہے جبکہ ناروےمیں انسانی حقوق کی ایرانی تنظیم کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 192ہوگئی ہے ، ایران کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک پرتشدد مظاہروں میں 114سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں ،ایرانی حکومت نے اتوار کے روز دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں سمیت دیگر "شہداء" کیلئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے، یہ اطلاع سرکاری ٹیلی ویژن نے دی ہے،ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرتشدد مظاہروں کے 200سے زائد منتظمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے ، ذرائع کے مطابق گرفتار افراد سے اسلحہ وگولہ بارود برآمد ہوا ہے ،ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے کہاہے کہ ملک میں بدامنی کم ہو رہی ہے اور تخریب کاری میں کمی آ رہی ہے،لندن میں ایرانی سفارتخانے کی عمارت سے مظاہرین کی جانب سے ایرانی پرچم اتارنے کے معاملے پر ایران نے برطانوی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے ، ترکیہ نے ایرانی شہریوں کو استنبول میں ایران کے قونصل خانے کے باہر احتجاج کرنے سے روک دیا، پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور ہجوم کو آگے بڑھنے سے روک دیا،اتوار کے روز لندن، پیرس اور استنبول میں مظاہرین نے ایران میں جاری احتجاجی لہر کی حمایت میں ریلیاں نکالیں،اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران جلد ہی اس استبداد سے آزاد ہو جائے گا، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق، اسرائیل اور جرمنی نے ایک سیکورٹی معاہدے پر دستخط کئے ہیں، جس کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے اور سائبر دفاع کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے لاحق خطرات کو بتایا گیا ہے۔نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور اس کی کٹھ پتلی تنظیمیں حزب اللہ، حماس اور حوثی نہ صرف اسرائیل بلکہ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہیں،اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ وہ ایران میں مظاہرین کے خلاف تشدد کی رپورٹس پر "صدمے" میں ہیں۔