کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی نائب صدر اور وزیر خارجہ ایران مذاکرات سے کنارہ کش کیوں رہے؟ امریکی ماہر عالمی امور جان میئر شائمر کا کہنا ہے اسرائیل نواز لابی کے خوف نے وینس اور روبیو کو ایران معاملے سے دور رکھا۔ 2028 کے صدارتی انتخاب میں دونوں رہنما اپنی پوزیشن محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی پر داخلی سیاسی مفادات کے اثرات ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں، جہاں معروف ماہرِ عالمی تعلقات جان میئر شائمر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی سیاست دان مارکو روبیو اور جے ڈی وینس ایران سے متعلق اہم مذاکرات سے جان بوجھ کر دور رہ رہے ہیں تاکہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں اپنی سیاسی پوزیشن کو محفوظ رکھ سکیں۔ میئر شائمر کے مطابق دونوں رہنما اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ایران اس وقت مذاکرات میں برتری کی پوزیشن پر ہے، اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے امریکہ کو نمایاں رعایتیں دینا پڑ سکتی ہیں۔ ان کے بقول، ایسی رعایتوں کا براہِ راست سیاسی بوجھ اس شخصیت پر آئے گا جو مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرے گی، خصوصاً امریکی داخلی سیاست میں اثر و رسوخ رکھنے والی اسرائیل نواز لابی کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔