کراچی (رفیق مانگٹ) ایلون مسک کا اوپن اے آئی کیخلاف 362کھرب ہرجانے کا تاریخی مقدمہ، سماعت شروع، کیلیفورنیا وفاقی عدالت میں اے آئی کی سمت اور کنٹرول پر ٹیک دنیا کی بڑی قانونی جنگ، مسک کا سخت مؤقف، اوپن اے آئی کو دوبارہ نان پرافٹ بنانے اور قیادت ہٹانے کا مطالبہ، مائیکروسافٹ کی شراکت داری پر سوالات، اوپن اے آئی کا جواب تھا الزامات ذاتی مفاد اور مسابقتی دباؤ کا نتیجہ ہیں، مسک خود بھی کمپنی کو منافع بخش بنانے کے حامی رہے ہیں، جج کی مسک کو سوشل میڈیا بیانات سے عدالتی عمل متاثر نہ کرنیکی ہدایت، ماہرین کا کہنا ہے یہ مقدمہ AI مستقبل کو بدل سکتا ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں ایلون مسک کی جانب سے اوپن اے آئی اور اس کی قیادت کے خلاف دائر تاریخی مقدمہ باقاعدہ سماعت میں داخل ہو گیا ہے، جس میں362 کھرب 41 ارب روپے( 130 ارب ڈالر )ہرجانے، کمپنی کو دوبارہ نان پرافٹ بنانے اور اعلیٰ قیادت کو ہٹانے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ مقدمہ نہ صرف دو بڑے ٹیک رہنماؤں کے درمیان قانونی جنگ بن چکا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اس کے کنٹرول اور انسانیت پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے ایک فیصلہ کن موڑ بھی تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ خود مسک نے عدالت میں خبردار کیا کہ اے آئی انسانیت کو فائدہ بھی دے سکتی ہے اور تباہ بھی کر سکتی ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران مسک نے گواہی دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اوپن اے آئی نے اپنی اصل فلاحی اور اوپن سورس مشن سے انحراف کیا اور منافع کمانے والی کمپنی میں تبدیل ہو کر بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق انہوں نے 2015 میں کمپنی کے قیام کے وقت محفوظ اور انسانیت کے مفاد میں AI تیار کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی، مگر بعد ازاں ادارہ اپنے مقصد سے ہٹ گیا۔ مسک نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کی ساخت میں تبدیلی اور سرمایہ کاری کے حصول کے لیے کیے گئے فیصلے، خصوصاً مائیکرو سافٹ کے ساتھ شراکت داری، اس بات کا ثبوت ہیں کہ اوپن اے آئی اب عوامی مفاد کے بجائے تجارتی اہداف کے تحت کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی خدشات انہیں اس قانونی چارہ جوئی پر مجبور کرنے کا سبب بنے۔ دوسری جانب اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین اور صدر گریگ براکمین کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسک کا مقدمہ دراصل ذاتی مفادات اور مسابقتی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ دفاعی وکیل کے مطابق مسک خود بھی کمپنی کو منافع بخش بنانے کے حامی تھے اور اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب وہ مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ مسک 2018 میں کمپنی سے علیحدہ ہو گئے تھے، جس کے بعد اوپن اے نے فنڈنگ کے حصول کے لیے اپنی ساخت تبدیل کی۔ وکلا کے مطابق کمپنی کی ترقی اور کامیابی نے مسک کو بطور حریف پریشان کیا، خصوصاً جب انہوں نے اپنی علیحدہ AI کمپنی قائم کی، جس کے باعث یہ مقدمہ ایک مسابقتی حکمت عملی کا حصہ بن گیا۔ سماعت کے دوران جج نے مسک کو سوشل میڈیا پر مقدمے سے متعلق بیانات دینے پر تنبیہ کی اور خبردار کیا کہ اس سے عدالتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں فریقین نے مقدمے کے حوالے سے عوامی بیانات محدود کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ جیوری کے انتخاب کے مرحلے میں ایسے افراد کو خارج کیا گیا جن کے خیالات جانبدار سمجھے گئے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ نہ صرف اوپن اے آئی کے مستقبل بلکہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی سمت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ کیس میں پیش کیے جانے والے شواہد، جن میں ای میلز، پیغامات اور اندرونی دستاویزات شامل ہیں، آئندہ ہفتوں میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ توقع ہے کہ یہ پیچیدہ مقدمہ کئی ہفتوں یا ممکنہ طور پر مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے اور اس کا حتمی فیصلہ AI انڈسٹری کے توازن کو بدل سکتا ہے۔