کراچی (جنگ نیوز) چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے آج کراچی میں ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) سہراب گوٹھ کا دورہ کیا۔ چیئرمین ٹی ایم سی سہراب گوٹھ، لالہ رحیم اور ان کی ٹیم نے چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا خیرمقدم کیا۔ پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی بھی اس موقع پر موجود تھیں۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وژن ہے، جس کا مقصد ملک کے محروم اور مستحق طبقات بالخصوص خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے 2008 میں اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اس پروگرام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے مستفید ہونے والی خاتون کو گھر کی سربراہ تسلیم کیا گیا، جو دنیا میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی میں شناختی کارڈ کی شرط رکھنے سے کروڑوں خواتین کو نہ صرف قومی شناخت ملی بلکہ معاشی خودمختاری اور سیاسی عمل میں بطور ووٹر موثر شہری کا وقار بھی حاصل ہوا۔انہوں نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی ایک غیر جماعتی پروگرام ہے، جو نسل، زبان اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہر مستحق خاندان کے لیے ہے۔ آج 17 سال بعد یہ پروگرام ایک مضبوط اور مؤثر نظام کی صورت میں موجود ہے اور اس وقت ایک کروڑ سے زائد خاندان اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بتایا کہ کوئی بھی مستحق خاتون بی آئی ایس پی کے دفتر جا کر شناختی کارڈ، بجلی کا بل، بچوں کا ب فارم اور اسکول سرٹیفکیٹس کے ساتھ اپنی رجسٹریشن کروا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بی آئی ایس پی کی تمام خدمات مکمل طور پر مفت ہیں اور کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ اگر کوئی شخص بی آئی ایس پی کے نام پر پیسوں کا مطالبہ کرے تو اس کی فوری طور پر رپورٹ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب ہے اور اس نام کی حرمت اور وقار کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ خواتین بینیفیشریز کو چاہیے کہ وہ کسی بھی زیادتی یا غیر قانونی مطالبے کے خلاف خاموش نہ رہیں۔