قوموں کی تعمیر اور علم وآگہی کی ترویج میں بنیادی کردار کے حامل افراد، نمود و نمائش اور شہرت سے دُور، خاموشی سے اپنی ذمّے داریاں نبھاتے ہیں۔ میرے والد خواجہ مشتاق احمد بانڈے کا شمار بھی ایسے ہی درویش صفت، باوقار اور علم دوست اساتذہ میں ہوتا ہے۔ وہ ایک شفیق باپ، بے مثال استاد ہونے کے ساتھ، لاجواب شخصیت کے حامل تھے۔
اُن کا تعلق مردم خیز خطّے ضلع حویلی کے گاؤں کالا مولہ سے تھا۔ اوائل عُمری ہی میں شعبۂ تدریس سے وابستہ ہوگئے تھے۔ ابتدا میں چند برس تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں، مگر پھر مظفرآباد تبادلہ ہوگیا، تو وہیں کے ہوکررہ گئے۔ شعبۂ تدریس سے پینتیس برس کی طویل اور بامقصد وابستگی کے دوران اُنھوں نے نہ صرف ہزاروں بچّوں کے اذہان روشن کیے، بلکہ بےشمار زندگیاں بھی سنواریں۔ اُن کی زندگی اِس حقیقت کا عملی ثبوت تھی کہ ایک مخلص استاد صرف اپنے طلبہ ہی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی سمت بھی متعین کرتا ہے۔
میرے والد، شعبۂ تدریس کو کبھی محض ملازمت نہیں، بلکہ ایک مقدّس امانت سمجھتے تھے۔ ہمیشہ یہی کہا کرتے کہ علم دیانت، محنت اور اِخلاص کے ساتھ اگلی نسل تک منتقل کرنا فرضِ عین ہے۔ اُن سے علم وآگہی حاصل کرنے والا ہر بچّہ، علم کے ساتھ اخلاق، ضبطِ نفس اور مقصدیت کا پیغام لے کر نکلتا۔ وہ نصابی تعلیم کے ساتھ طلبہ کی کردارسازی پر بھی خصوصی توجّہ دیتے۔
اُنہوں نے مظفرآباد کے اسکولوں کھن بانڈی، دھنی مائی صاحبہ سمیت کئی تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ تاہم، بابِ علی اکبر اعوان ماڈل ہائی اسکول، مظفرآباد سے طویل وابستگی رہی، جہاں تقریباً 25برس تعینات رہے۔ اس دوران اُنہوں نے ادارے کا تعلیمی ماحول بہتر بنانے، طلبہ میں مقابلے کا رجحان پیدا کرنے اور اساتذہ و طلبہ کے درمیان احترام و اعتماد کی فضا قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اُن کے دَور میں اس اسکول کے طلبہ نہ صرف امتحانات میں بہتر نتائج دیتے، بلکہ نظم و ضبط، اخلاقیات اور خود اعتمادی میں بھی نمایاں نظر آتے۔ یوں کہیے، بہتری کے اس پس منظرمیں میرے والد، خواجہ مشتاق احمد بانڈے جیسے اساتذہ کی شبانہ روز محنت شامل تھی۔ وہ علاقے کے معروف تعلیمی ادارے، شاہین اکیڈمی کے روحِ رواں بھی تھے۔
یہ ادارہ محض کوچنگ سینٹرہی نہیں، بلکہ ایک تعلیمی تحریک تھی، جس کا مقصد وسائل کی کمی کے باوجود طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا۔ تب ہی اُن کی گراں قدر خدمات آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ اُنھوں نے خصوصاً اُن باصلاحیت بچّوں پر بھرپور توجّہ دی، جو مالی مشکلات کے سبب مناسب رہنمائی سے محروم تھے۔ اُن کے کوچنگ سینٹر میں نہ صرف امتحانات کی تیاری کروائی جاتی، بلکہ وقت کی پابندی، محنت، نظم اور مقصدیت جیسے اوصاف سے بھی روشناس کروایا جاتا۔
اس ادارے سے کسبِ فیض کے بعد اُن کے ہزاروں شاگرد، اعلیٰ مقام تک پہنچے اور آج میڈیکل، انجینئرنگ، قانون اور تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں مُلک و قوم کی خدمت کررہے ہیں اور تمام طلبہ آج بھی اپنے استاد کا ذکر انتہائی احترام و محبّت سے کرتے ہیں، جب کہ اُن کے الفاظ، نصیحتیں اور رہنمائی آج بھی اُن کے فیصلوں اور رویّوں سے جھلکتے ہیں۔ بلاشبہ، یہی وہ صدقۂ جاریہ ہے، جو ایک سچّے معلّم کے حصّے میں آتا ہے۔
میرے والد کی شخصیت، سادگی، وقار اور حِلم کا حسین امتزاج تھی۔ وہ ہمیشہ نرم لہجے میں بات کرتے، لیکن اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہ کیا۔ اُن کا تدریسی اسلوب طلبہ کو سوچنے، سوال کرنے اور خُود سیکھنے کی طرف مائل کرتا تھا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ایک اچھا استاد صرف درس ہی نہیں دیتا، سوال کرنے کی جرأت بھی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن سے علم و آگہی حاصل کرنے والے طلبہ آگے چل کر سوچ و فکرکی وسعت سے علم و دانائی کا پیکر بنے۔
میرے والد کی گفتگو میں ہمیشہ اصلاح، خیر خواہی اور اُمید کا ایک پیغام ہوتا تھا۔ اگرچہ اُن کاعملی تدریسی سفر مکمل ہوچکا، مگر اُن کی قائم کردہ روایات آج بھی زندہ ہیں۔ بلاشبہ، وہ ایک فرد نہیں، ایک عہد تھے۔ اُنھوں نےعلم و شعور کےجو بیج بوئے، آج تن آور درخت کی صُورت سامنے آچکے ہیں۔ 13 ستمبر 2025ء کو میرے والد نے جب داعیٔ اجل کو لبیک کہا، تو اُن کی نمازِ جنازہ میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔
بعدازاں، تعزیتی ریفرنس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد نے اُن کی شخصیت اور تدریسی سرگرمیوں پر بھرپور روشنی ڈالی۔ غالب نے ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا تھا ؎ سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں .....خاک میں کیا صُورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں۔ اللہ پاک میرے والد کی قبرِ انور پر رحمتوں کا نزول جاری و ساری رکھے۔ (آمین) ( عائشہ مشتاق بانڈے، مظفّر آباد)