• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خاموش انقلاب، پاکستان خود روزگار سے تنخواہ دار معیشت کی طرف

اسلام آباد (قاسم عباسی) خاموش انقلاب، پاکستان خودروزگار سے تنخواہ دار معیشت کی طرف، 60فیصد پاکستانیوں کااب تنخواہ پر انحصار، روایتی خودروزگار و فیملی مزدوری ماڈل تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ نئے متوسط طبقے کی سیاسی توقعات اور امیدیں، منافع سے زیادہ خریداری کی طاقت و پیشہ ورانہ ترقی پر توجہ، ماہانہ بجٹ، کرایہ و اسکول فیس طے شدہ چکر نے نفسیات بدل دی، معاشی استحکام لیکن حفاظتی ڈھانچے کی کمی کاسامنا ہے۔پاکستان ایک گہری ساختی تبدیلی سے گزر رہا ہے جو خاموشی سے ملک کے سماجی معاہدے کو دوبارہ لکھ رہی ہے۔دہائیوں تک پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی خودروزگار افراد کی محنت اور کھیتوں اور چھوٹے کاروباروں میں بغیر معاوضہ کام کرنے والے خاندان کے افراد کی نظر نہ آنے والی محنت پر قائم تھی۔تاہم پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار ایک وسیع "تمدنی تبدیلی" کی نشاندہی کرتے ہیں جو ان روایتی بنیادوں سے ہٹ کر ملک کو ایک نوجوان روزگار یافتہ قوم کی طرف لے جا رہی ہے۔ 1996 میں تنخواہ دار کارکن مزدور فورس کا نصف سے کم حصہ تھے، لیکن 2025 تک یہ تناسب بڑھ کر 60 فیصد تک پہنچ گیا، یعنی ہر دس میں سے چھ افراد اب ماہانہ تنخواہ پر زندہ رہتے ہیں۔
اہم خبریں سے مزید