• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران پر امریکی حملہ رکوانے کیلئے قطر، سعودیہ اور عمان کی لابنگ شروع

پیرس ،ریاض، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) ایران پر امریکی حملہ رکوانے کیلئے قطر ، سعودی عرب اور عمان نے لابنگ شروع کردی ہے ، امریکی اخبار سی این این کے مطابق ان تینوں ممالک نے صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کی دھمکی پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے خفیہ سفارت کاری کا آغاز کردیا ہے اور ان کا موقف ہے کہ تہران کیخلاف کسی بھی کارروائی سے پورے مشرق وسطیٰ پر اثرات مرتب ہوں گے ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک سینئر مشیر علی شمخانی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ جون میں قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی حملے نے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی اس کی صلاحیت کو ثابت کر دیا ہے، علی شمخانی نے لکھا کہ ٹرمپ کوالعدید ایئر بیس پر ہونے والے حملے کو یاد رکھنا چاہیے،ذرائع کے مطابق امریکا نے العدید ائیر بیس سے اپنی کچھ فوجی اہلکاروں کو نکال لیا ہے ، قطر کے مطابق یہ اقدام علاقائی کشیدگی کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے ، امریکی حملے کے پیش نظر سعودی عرب نے ایران کو آگاہ کردیا ہے کہ اس کی سرزمین اور فضائی حدود ایران پر حملہ کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، دو حکومتی ذرائع نے یہ بات اے ایف پی کو بتائی ، ایک ذریعہ نے بتایا کہ سعودی عرب نے ایران کوبراہ راست آگاہ کردیا ہے کہ ان کا ملک ایران کیخلاف فوجی کارروائی میں کسی طور شریک ہوگا اور نہ ہی اپنی سرزمین یا فضائی حدود اس مقصد کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ دوسرے حکومتی ذریعہ نے بتایا کہ ایران تک یہ پیغام پہنچادیا گیا ہے ۔ سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے اپنے فوجی اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کریں اورغیر ضروری طور پر فوجی تنصیبات کی طرف جانے سے گریز کریں،امریکی شہریوں کو بھی غیر ضروری سے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،ایران میں جاری مظاہروں میں شہید 100سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ، ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران کئی چھوٹے بڑے شہروں میں حکومت کے حق میں بھی مظاہرے جاری رہے ، ناروے میں قائم ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں مظاہرین کیخلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 3ہزار 428افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ 10ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے، روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات اور معاہدوں پر عمل درآمد جاری رہے گا اور امریکی دھمکی سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔دریں اثناء ایران نے بھی علاقائی ممالک سے سفارتی رابطے تیز کردیئے ہیں ۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کے سربراہ علی لاریجانی نے قطر کے وزیرِ خارجہ سے بات کی ہے جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اماراتی اور ترک ہم منصبوں سے گفتگو کی۔ یہ تمام ممالک امریکا کے اتحادی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اماراتی وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید کو بتایا کہ ’ملک میں امن قائم ہو چکا ہے‘ اور ایرانی عوام غیر ملکی مداخلت کے خلاف اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کیلئے پرعزم ہیں۔ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک ’شرپسند اور غیر ملکی مداخلت‘ کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔

اہم خبریں سے مزید