کراچی (رفیق مانگٹ) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور خطرے کے دہانے پر کھڑا ہے، آئندہ 24 گھنٹوں میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یورپی اور اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کارروائی کا فیصلہ کر چکے، برطانیہ نے بھی قطر میں امریکی اڈے سے اپنے فوجی واپس بلانا شروع کر دیئے،عراق اور قطر میں موجود امریکی فوجیوںکو بھی خطرات لاحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کی کریک ڈاؤن پالیسی کے خلاف مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ٹیلی گراف کے مطابق ایران پر حملے آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ہو سکتے ہیں، کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کے کریک ڈاؤن میں مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے۔دو یورپی عہدیداروں نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ امریکی فوجی مداخلت کا امکان واضح طور پر موجود ہے، جن میں سے ایک عہدیدار نے کہا کہ یہ کارروائی اگلے 24 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے۔ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی کہا ہے کہ بظاہر ٹرمپ نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم اس کارروائی کے دائرۂ کار اور وقت کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔