• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ، پاکستان کی جرأت مندانہ انٹری، اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے

کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی میگزین فارن پالیسی نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان نے جرأت مندانہ انٹری کی ہے ، اربوں ڈالر کے اسلحہ سودے اور نیا دفاعی کردار ادا کررہا ہے ، واشنگٹن سے قربت،سعودی اتحاد میں ترکیہ کی شمولیت، طرابلس اور خرطوم سے دفاعی سفارتکاری ۔ تفصیلات کے مطابق ریاض سے طرابلس تک ،پاکستان کی دفاعی پیش قدمی ،غزہ سے تہران تک، پاکستان کی نئی مشرقِ وسطیٰ حکمتِ عملی سعودی اتحاد، ترک شمولیت اور لیبیا رسک، امریکی جریدہ فارن پالیسی لکھتا ہے پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) میں اپنی سفارتی اور دفاعی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک تیز کر رہا ہے، جہاں وہ سوڈان کے ساتھ 1.5 ارب ڈالر، لیبیا کے ساتھ 4 ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدوں کے قریب ہے، سعودی عرب کے ساتھ نئے دفاعی سودے اور باہمی دفاعی معاہدے کو وسعت دینے پر بات چیت جاری ہے، ترکی کی ممکنہ شمولیت زیرِ غور ہے، غزہ میں بین الاقوامی استحکام مشن میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے، جبکہ امریکا-ایران کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششیں بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنے اسٹریٹجک وزن، عسکری صلاحیت اور علاقائی اثرورسوخ کو منوانا چاہتا ہے، مگر اس کے ساتھ سنگین جیوپولیٹیکل خطرات بھی وابستہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں عالمی توجہ مینا خطے پر مرکوز ہے، اور پاکستان اپنی جغرافیائی قربت اور سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر اہم ریاستوں سے گہرے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اپنی اسٹریٹجک اہمیت اجاگر کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں دفاعی برآمدات، عسکری تعاون اور سفارتی کردار کو یکجا کر کے اسلام آباد خود کو ایک ابھرتا ہوا نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید