٭…ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ پر امن مزاحمت میں یقین رکھتی ہیں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قائد ہیں۔مارچ 2025 میں انہیں ریاستی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کوئٹہ میں ایک پر امن احتجاج کے دوران گرفتا ر کر لیا گیا۔وہ ابھی بھی جیل میں ہیں۔
٭…پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا شمار پاکستان کی نمایاں طبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ اکتوبر 2025میں انہیں انٹرنیشنل فیڈریشن آف گائنا کولوجی اینڈ آبسٹریٹکس کی ٹرسٹی منتخب کیا گیا، وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ یہ بین ا لاقوامی سطح پر خواتین کی صحت کے شعبے میں ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔
٭… خواتین کوہ پیماؤں کی ٹیم نے 2025میں اس وقت تاریخ رقم کی جب گلگت بلتستان کی بی بی افزون اور زیبا بتول، پنجاب سے بسمہ حسن اور اقرا جیلانی، سندھ سے مدیحہ سید، خیبر پختونخوا سے ماریہ بنگش، اسلام آباد سے امینہ شبیر اور بلوچستان سے لاریب بتول نے کامیابی سے دیو سائی میں باری لا چوٹی سر کی۔ صرف مدیحہ سید جو اس سے پہلے تنزانیہ کی سب سے اونچی چوٹی سر کر چکی ہیں کو طبیعت کی خرابی کے باعث پانچ ہزار فٹ کی بلندی سے واپس آنا پڑا۔اس مہم کے انتظامات اور مالی اعانت پاکستان الپائن کلب نے کی تھی۔
٭…پچیس سالہ وکیل ماہ نور عمر اس وقت اخبارات کی سرخیوں کی زینت بنیں جب انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں سینیٹری پیڈز پر لگائے جانے والے اٹھارہ فی صد سیلز ٹیکس کے خلاف پیٹیشن دائر کی۔ ان کے بقول یہ’’پیریڈ ٹیکس‘‘ ہے۔ یوں انہوں نے عدلیہ میں حفظان صحت کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کیا۔