سندھ میں اس وقت پچاس فائر فائٹر خواتین کام کررہی ہیں۔ جب کہ 180 خواتین ریسکیو غوطہ خور، ایمبولنس میڈکس اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔ 2025 میں کراچی کی فائر فائٹر تئیس سالہ معصومہ زیدی اپنی اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر اخبارات کی سرخیوں کی زینت بنیں۔
انہوں نے پنجاب ریسکیو سروس اکیڈمی سے گریجویشن کی جہاں انہوں نے ہائی اینگل ریسکیو کی مہارتوں پر عبور حاصل کیا جن میں آتش زدگی کے دوران بلند بالا عمارتوں میں پھنس جانے والوں اور دیگر پانی اور آگ سے متعلق ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو بچانے کے لئے سیڑھیوں، رسیوں اور ٹرالی کے استعمال کی تربیت شامل ہے۔
ان کی ٹیم مردوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ کہیں آگ بجھانے جاتی ہیں تو لوگ انہیں دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’یہ تو لڑکی ہے، یہ کیسے آگ پر قابو پائے گی؟‘‘ ان کی ساتھیوں میں عریبہ تاج اور دیگر خواتین کولیگز شامل ہیں۔