احمد ندیم قاسمی
رات کی اڑتی ہوئی راکھ سے بوجھل ہے نسیم
یوں عصا ٹیک کے چلتی ہے کہ رحم آتا ہے
سانس لیتی ہے درختوں کا سہارا لے کر
اور جب اس کے لبادے سے لپٹ کر کوئی
پتہ گرتا ہے تو پتھر سا لڑھک جاتا ہے
شاخیں ہاتھوں میں لیے کتنی ادھوری کلیاں
مانگتی ہیں فقط اک نرم سی جنبش کی دعا
ایسا چپ چاپ ہے سنولائی ہوئی صبح میں شہر
جیسے معبد کسی مرجھائے ہوئے مذہب کا
سر پہ اپنی ہی شکستوں کو اٹھائے ہوئے لوگ
اک دوراہے پہ گروہوں میں کھڑے ہیں تنہا
یک بیک فاصلے تانبے کی طرح بجنے لگے
قدم اٹھتے ہیں تو ذرے بھی صدا دینے لگے
درد کے پیرہن چاک سے جھانکو تو ذرا
مردہ سورج پہ لٹکتے ہوئے میلے بادل
کسی طوفان کی آمد کا پتا دیتے ہیں!
علی سردار جعفری
یہ کس نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کو
تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے
تصور اک نئے احساس کی جنت میں لے آیا
نگاہوں میں کوئی رنگین چہرہ مسکراتا ہے
جبیں کی چھوٹ پڑتی ہے فلک کے ماہ پاروں پر
ضیا پھیلی ہوئی ہے سارا عالم جگمگاتا ہے
شفق کے نور سے روشن ہیں محرابیں فضاؤں کی
ثریا کی جبیں زہرہ کا عارض تمتماتا ہے
پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں
نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے
زمیں نے پھر نئے سر سے نیا رخت سفر باندھا
خوشی میں ہر قدم پر آفتاب آنکھیں بچھاتا ہے
خوشی مجھ کو بھی ہے لیکن میں یہ محسوس کرتا ہوں
مسرت کے اس آئینے میں غم بھی جھلملاتا ہے
ہمارے دور محکومی کی مدت گھٹتی جاتی ہے
غلامی کے زمانے میں اضافہ ہوتا جاتا ہے
یہی انداز گر باقی ہیں اپنی سست گامی کے
نہ جانے اور کتنے سال آئیں گے غلامی کے
تسنیم مرزا
چلو ایک کام کرتے ہیں
جو جیون جا چکا ہے
اور واپس آ نہیں سکتا
اُسے بس یاد کرتے ہیں
اُسے بس زندگی کے نام کرتے ہیں
وہ سارے دن جو اپنے تھے
وہ سارے لوگ جگنو سے
جو راتوں میں چمکتے تھے
جو تھے سب ساتھ اور لگتا تھا
ہونگے نہ جدا ہم سے
مگر جب وقتِ رخصت آگیا
وہ کر گئے ہجرت
وہ ایسے چل دیے جیسے
نہ ہم سے کوئی ناتا ہو
وہ اک انجان سا رستہ
وہ بس انجان سی منزل
جو اس پر چل دیے
واپس کبھی بھی آ نہیں سکتے
چلو اک کام کرتے ہیں
وہ لمحے ڈھونڈ کر لاتے ہیں
جو کے سنگ تھے ان کے
ہماری ذات کا محور تھے وہ
اور جان جیسے تھے
سو جب سے ان سے ہیں بچھڑے
نہیں لگتا کے زندہ ہیں
ہماری سانس بھی لگتی ہے
جیسے بوجھ ہو کوئی
زمانے بھر کے سارے ہم
اگرچہ کام کرتے ہیں
مگر پھر بھی نہیں ہٹتے
وہ منظر جو تھے بیتے دن
چلو اک کام کرتے ہیں
انہی یادوں کے سنگ ہم
صبح سے بس شام کرتے ہیں
چلو اک کام کرتے ہیں
جو سب ہیں جا چکے
یہ وقت ان کے نام کرتے ہیں