اسلام آباد(خالدمصطفیٰ) مالی سال 2024–25 میں تقریباً 3,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کرنےکے باوجود پاکستان کا پاور سیکٹر بدستور نااہلی، کم استعمال اور بلند لاگت کا شکار ہے۔ نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 کے مطابق ملک کی نصب شدہ صلاحیت 41,121میگاواٹ رہی، مگر بجلی گھروں کا اوسط استعمال صرف 38.82فیصد رہا، جس کے باعث بجلی گھروںکی پیداواری گنجائش کے مطابق ان سے بجلی نہ خریدنے پر ہرجانہ ( کیپسٹی پیمنٹس) اور صارفین کے ٹیرف بدستور بلند ہیں۔رپورٹ کے مطابق کیپسیٹی پیمنٹس اوسطاً 14.21 روپے فی یونٹ رہی، جو بجلی کی قیمت کا سب سے بڑا حصہ ہے۔