اسلام آباد (محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کے روز اسپیکر سردار ایاز صادق نے داخلہ امور کے وزیر مملکت سینیٹر طلال چوہدری کی ارکان کے استفسارات کا برمحل جواب دینے اور کسی سوال کے جواب سے آگاہ نہ ہونے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا تو قانون و انصاف کے وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی رگ ظرافت پھڑک اٹھی انہوں نے ترنت کھڑے ہو کر کہا کہ جناب اسپیکر اس پر کیا وزیر مملکت کا مجسمہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ایستادہ نہ کردیا جائے۔ اسپیکر نے اسکی مخالفت نہیں کی اور اضافی طور پر کہا کہ جو وزیر بھی سوالات کی اس تیاری کے ساتھ آئے اسے سراہا جانا چا ہئے ذرا توقف کے بعد سینیٹر طلال چوہدری نے اس لطیف گفتگو میں حصہ ڈالا اور بے ساختگی سے استدعا کی کہ جو کچھ کرنا ہے ابھی میری زندگی میں کرلیں میرے فوت ہونے کا انتظار نہ کیا جائے ان پورے مکالموں میں ایوان قہقہوں سے گونجتا رہا۔ جمعیت العلمائے اسلام کی خاتون رکن محترمہ عالیہ کامران جن کے پے در پے سوالات پر وزیر مملکت اطمینان بخش جواب دے رہے تھے و ہ اور دیگر ارکان نے بھی وزیر مملکت کو سراہنے میں حصہ لیااور کہا کہ جب کوئی وزیر تیار ہو کر آتا ہے اور ارکان کے اطمینان کے مطابق جواب دیتا ہے تو انہیں بھی بے حد خوشی ہوتی ہے اور سکون ملتا ہے۔