• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹرویوز کو دو ماہ ہوگئے، چیئرمین ایچ ای سی کی تقرری نہ ہوسکی

کراچی( سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیرمین کے تقرر میں غیر معمولی تاخیر اور تین بہترین عالمی شہرت یافتہ امیدواروں کی سمری منظوری نہ ہونے کے باعث سوشل میڈیا پر سمری مسترد ہونے کی خبریں پھیلنا شروع ہو گئی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم نے اعتراض کرتے ہوئے سمری واپس وزارت تعلیم و پیشہ ود تربیت بھجوا دی ہے اور کہا ہے کہ چیرمین ایچ ای سی کے عہدے کے لیے دوبارہ اشتہار دیا جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے مستقل چیئرمین کی تقرری کے لئے انٹرویوز کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وزیر اعظم کی جانب سے تاحال مستقل چیئرمین کی تقرری نہ ہو سکی، جس کے باعث ادارہ جاتی گورننس، شفافیت اور قانونی تقاضوں پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کیونکہ مستقل چیئرمین کی اسامی 29 جولائی 2025 سے خالی ہے اور سیکریٹری ایجوکیشن ندیم محبوب بطور قائم مقام چیئرمین تین ماہ کی ایک مدت مکمل کرچکے جب کہ تین ماہ کی دوسری مدت ختم ہونے میں محض صرف 10 روز باقی رہ گئے ہیں۔ایچ ای سی کی 23 برس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مکمل میرٹ پر مستقل چیئرمین کا تقرر ہونے جا رہا تھا، ان تین امیدواروں میں پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، ڈاکٹر ڈاکٹر محمد علی شاہ، اور ڈاکٹر نیاز احمد شامل ہیں جن کی نہ صرف ملکی شہرت ہے بلکہ غیر ممالک میں بھی مقبول ہیں اور ان کی بیشتر اعلی تعلیمی اسناد غیر ممالک سے حاصل کی گئی ہیں۔وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا وزیر اعظم ہاؤس سے سمری مسترد ہونے کی بات میں کوئی صداقت نہیں اور نہ مجھے اس کی کوئی اطلاع ہے سکریٹری تعلیم ندیم محبوب کا کہنا تھا کہ سمری مسترد ہونے کی کوئ انھیں تاحال کوئ اطلاع نہیں ملی ہے۔تعلیمی ماہرین اور پالیسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سرچ کمیٹی کا قیام اور اس کے اراکین کا تقرر خود وزیر اعظم کی منظوری سے ہوا تھا، اس لیے اگر انہی سفارشات کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف سرچ کمیٹی بلکہ پورے انتخابی عمل پر عدم اعتماد کے مترادف ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس تاخیر سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پالیسی جمود، انتظامی بے یقینی اور ادارہ جاتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اہم خبریں سے مزید