کراچی( اسٹاف رپورٹر )کراچی میں نقاب پوش اہلکاروں کا تاجر کے گھر پر چھاپے کا معاملہ ، کراچی پولیس چیف نے نوٹس لیتے ہوئے انکوائری پولکا حکم دے دیا۔نارتھ ناظم آباد گولڈن گیٹ کے رہائشی ذیشان نامی تاجر نے اپنے گھر میں چھاپے کے حوالے سے بیان دیا تھا جس میں اس نے بتایا تھا کہ دو روز قبل نارتھ ناظم آباد میں ایس آئی یو پولیس نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ذیشان نے الزام عائد کیا کہ نقاب پوش اہلکاروں نے گھر میں ڈکیتی کی واردات کی ہے۔چھاپے کے دوران نقاب پوش مسلح مبینہ اہلکاروں نے اپارٹمنٹ کے تمام کیمرے توڑے۔ نقاب پوش اہلکار اپنے ہمراہ کیمروں کا ڈی وی آر بھی لے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق دو برطرف پولیس اہلکار بھی چھاپے میں شامل تھے۔اس حوالے سے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی زیر حراست ایک ملزم عباد الرحمٰن کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ملزم نے بتایا کہ ذیشان ان کا سہولت کار ہے۔ملزم نے بتایا ہے کہ وہ سال 2017 سے اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کر رہا ہے اور متعدد بار گررفتار ہو کر جیل بھی کاٹ چکا ہے۔ملزم کے مطابق وہ اب تک 200 سے زائد وارداتیں کر چکا ہے۔ملزم نے بتایا کہ سال 2018 میں مومن آباد پولیس کے ہاتھوں وہ اور اس کے دیگر ساتھی شہد، شجاع اور کاشف دوران ڈکیتی ایک شخص کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے تھے تاہم وہ اور کاشف بری ہوگئے تھے اور شہد کو 25 سال کی سزا ہوگئی تھی ۔ملزم نے اپنے بیان میں بتایا کہ 23 اکتوبر 2022 کو اس نے گلشن اقبال میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دوران ڈکیتی پولیس اہلکار کو فائرنگ کر کے زخمی کیا تھا۔ فائرنگ اس کے ساتھی امتیاز نے کی تھی ۔ملزم عبادالرحمان ولد عبدالرحمان نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ اورنگی ٹاؤن چار نمبر کا رہائشی ہے ۔ گرفتاری سے قبل وہ اور طیب ڈکیتی کے لیے جا رہے تھے کہ پولیس نے انھیں پکڑ لیا ۔ملزم نے بتایا کہ چھینے گئے موبائل فون وہ بنارس پر واقع صغیر کی دکان پر فروخت کرتے تھے ۔دکاندار صغیر امتیاز کا جاننے والا ہے ۔ ملزم نے بتایا کہ اس کی گینگ کے تین ساتھی فہد ، کاشف اور فیضان جیل میں جبکہ امتیاز ، ،حذیفہ ،جبار اور معاویہ باہر ہیں۔ملزم نے بتایا کہ وہ زیادہ تر وارداتیں گلشن اقبال ، اورنگی ،حیدری اور طارق روڈ پر وارداتیں کرتے تھے۔ زیادہ تر چھینے گئے موبائل ذیشان کو دیتے جنھیں وہ آگے فروخت کرتا تھا اور آدھے پیسے ہمیں دیتا تھا اور آدھے خود رکھتا تھا ۔ ذیشان کے گینگ میں متعدد لڑکے شامل ہیں ۔ ذیشان ایک لسانی جماعت کا رکن ہے ۔ ذیشان اور طیب ہمیں پولیس کے ہاتھوں چھڑانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تاجر ذیشان کے گھر پر گرفتار ملزمان کی نشاندھی پر چھاپہ مارا گیا۔پولیس نے بتایا کہ مبینہ تاجر ذیشان گرفتار ڈکیت گینگ کا سہولت کار ہے۔ ڈکیت سامان چھیننے کے بعد مبینہ تاجر کو فروخت کرتے تھے۔ایس آئی یو پولیس کی جانب سے موقف دینے کے بعد کئی سوالات جنم لینے لگے۔گرفتار ڈکیت کے سنگین انکشافات کے بعد ایس آئی یو پولیس بغیر وردی اور نقاب پہن کر مبینہ تاجر کے گھر پر کیوں پہنچی؟مبینہ تاجر ذیشان کے گھر پر موجود ہونے کے باوجود ایس آئی یو پولیس نے اسے کیوں گرفتار نہیں کیا؟ایس آئی یو ٹیم کے ہمراہ نقاب پوش اہلکار کون تھے؟چھاپے کے دوران برطرف اہلکار کیا کررہے تھے؟ایس آئی یو حکام ان تمام تر سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہیں۔ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے تاجر ذیشان کے گھر پر چھاپے کے دوران دو برطرف پولیس ملازمان سے متعلق خبر کا سختی سے نوٹس لے لیا ہے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی نے واقعہ کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدار انکوائری کے احکامات جاری کرتے ہوئے ایس ایس پی ملیر کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے دو دن کے اندر تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی نے واضح کیا ہے کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر معاملے کی جانچ کی جائے گی اور اگر کسی افسر یا اہلکار کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال یا خلافِ ضابطہ اقدام ثابت ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔