کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے علاقے اسکیم 33میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے رہائشی پلاٹس پر کمرشل تعمیرات اور دکانوں کی کنسٹرکشن بھی کی جارہی ہے تاہم متعلقہ محکمےسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے "پک اینڈ چوز" کی بنیاد پر ان تعمیرات کے خلاف محض نمائشی کارروائیاں ہی کی جارہی ہیں اور بااثر افراد کی جانب سے کی جانے والی کنسٹریکشن کی جانب سے آنکھیں بند کرلی گئی ہیں حال ہی میں جمالی پل کے جوار میں گلستان سوسائٹی کے سامنے نان کمرشل پلاٹ پر دکانوں سمیت دیگر کمرشل تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے مکینوں کے مطابق اس کی باقاعدہ تحریری اطلاع بھی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو دی گئی ہے تاہم اس کے باوجود یہ تعمیرات تیزی سے جاری ہیں اور اتھارٹی کی جانب سے تحریری شکایت کے باوجود اسے روکا نہیں جارہااور خاموشی اختیار کی گئی ہے دوسری جانب سیکٹر بی 19اسکیم 33کے پلاٹ رہائشی زمرے میں آتے ہیں یہاں غیر قانونی اور غیر مجاز تعمیرات کی گئی ہیں رہائشی مقاصد کے پلاٹس پر یہ تعمیرات سوسائٹی کے مرکزی دروازے کے سامنے ہونے سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ان تعمیرات پر کارروائی کے باوجود یہ تعمیرات دوبارہ شروع کردی گئیں درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سوسائٹی سے باہر بعض پلاٹ مالکان جن کے پلاٹس رہائشی نوعیت کے ہیں اس کے باوجود وہ ان رہائشی پلاٹس پر کمرشل نوعیت کی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں پلاٹ پر کمرشل گودام قائم ہیں جبکہ ایک پلاٹ پر کمرشل ورکشاپ موجود ہے پلاٹ پر اسٹیٹ ایجنٹ کے طور پر کام ہورہا ہے ہے یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ درخواست دینے کے بعد سوسائٹی انتظامیہ نے بھی اس مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور علاقہ مکین اب ان کمرشل تعمیرات کے رحم و کرم پر ہیں۔