پشاور (نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین) کی جانب سے سوشل سیکورٹی ایکٹ 2021کے خلاف دائر رٹ پٹیشن خارج کرتے ہوئے نجی سکولوں کے اساتذہ سمیت تمام ملازمین کو سو شل سیکورٹی مراعات کا حقدار ٹھہرا دیا ہے۔جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دورکنی بنچ نے رٹ پر سماعت کی جس میں خیبرپختونخواایمپلائز سوشل سیکورٹی ایکٹ 2021کے تحت 6جنوری 2025کو جاری نوٹیفیکیشن کوچیلنج کیا گیاتھا۔ دوران سماعت پی ایس آر اے کیجانب سے بیرسٹر اسد الملک جبکہ ای ایس ایس انسٹیٹیوشن کیجانب سے گوہر درانی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ رٹ میں موقف اختیارکیاگیا تھاکہ پی ایس آر اے ایکٹ 2017کے تحت صوبے میں سکولوں کو ریگولیٹ کیاگیاہے تاہم ای ایس ایس ایکٹ 2021کے تحت نجی سکولوں سے ملازمین کا ریکارڈ، تنخواہوں کی تفصیلات، اوورٹائم ریکارڈ، بینک اکاونٹس وغیرہ کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں جو غیرقانونی وغیرآئینی ہے کیونکہ پی ایس آر اے کا مقصد صرف سکولوں کی رجسٹریشن، فیسوں ودیگر متعلقہ معاملات کو دیکھنا ہے نہ کہ وہ نجی سکولوں کے معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ملازمین سے متعلق ڈیٹامانگے۔ اس موقع پر بیرسٹر اسدالملک نے عدالت کو بتایاکہ سوشل سیکورٹی ملازمین کا بنیادی حق ہے اور مذکورہ قوانین کا مقصد صرف سکولوں کی ریگولیشن،نگرانی ومانیٹرنگ نہیں بلکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنا بھی ہے۔انہوں نے بتایاکہ ایمپلائز سوشل سیکورٹی ایکٹ 2021کا مقصد نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی فلاح وبہبود ہے اور یہ قانون تعلیمی اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پی ایس آر اے نے جونوٹیفیکیشن جاری کیا ہے وہ اس کا قانونی دائرہ اختیار ہے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل سیکورٹی ایکٹ کے تحت جاری نوٹیفیکیشن کو درست قراردے دیااور اس ضمن میں نجی تعلیمی تنظیم کی رٹ پٹیشن خارج کردی ہے۔