• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قبائلی افسران عوام دوست طرزِ عمل سے دل جیتنے لگے

پشاور ( جنگ نیوز ) حالیہ برسوں میں عوامی رائے میں ایک واضح رجحان سامنے آیا ہے کہ قبائلی افسران اپنی کارکردگی کی بدولت غیر معمولی پذیرائی حاصل کر رہے ہیں۔ بازاروں سے لے کر سوشل میڈیا تک، ان کے نام تعریف اور اطمینان کے ساتھ لیے جاتے ہیں، شکایات کے ساتھ نہیں۔ کمشنر ریاض محسود، ڈپٹی کمشنر عرفان محسود، پولیس افسر میاں سعید جان باجوڑی، ڈی آئی جی حسین خان، ڈی آئی جی جیل خانہ جات بیت اللّٰہ مہمند، ڈی آئی جی غفور آفریدی، پولیس افسر اول خان صافی اور پولیس افسر سعید خان وزیر جیسے افسران کی مثالیں اکثر دی جاتی ہیں۔ اسی طرح کئی دیگر افسران بھی ہیں جن کے نام شاید ہر شخص کو یاد نہ ہوں، مگر اپنے علاقوں میں وہ عزت اور نیک نامی رکھتے ہیں۔ ان کی شہرت کسی تشہیری مہم کا نتیجہ نہیں بلکہ روزمرہ کی عوامی خدمت کا ثمر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے دفاتر کا منظر خود ایک کہانی سناتا ہے۔ انتظار گاہیں اکثر لوگوں سے بھری رہتی ہیں۔ شہری اپنے مسائل لے کر آتے ہیں، بعض اوقات آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر پریشانی کے آثار ہوتے ہیں۔ مگر واپسی پر منظر بدل چکا ہوتا ہے۔ کئی افراد کے چہروں پر اطمینان، سکون اور دعاؤں کے تاثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی سرکاری بیان سے زیادہ مؤثر گواہی دیتی ہے۔ مشاہدہ کرنے والوں کے مطابق ان افسران کی خاص بات صرف انتظامی صلاحیت نہیں بلکہ ان کا انسانی رویہ ہے۔ وہ درخواست گزار کو محض ایک فائل نہیں سمجھتے بلکہ ایک انسان کے طور پر سنتے اور عزت دیتے ہیں، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے یا برادری سے ہو۔ قبائلی افسران کی ایک اور نمایاں خوبی ان کی وفاداری اور تعلق نبھانے کا انداز ہے۔ ساتھیوں اور جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ دوستی اور پیشہ ورانہ تعلقات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
پشاور سے مزید