پشاور (خصوصی نامہ نگار) خیبر پختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور صوبائی وزیر ایکسائز سید فخر جہان کی ہدایات پر جاری کارروائیوں میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن ونارکوٹکس کنٹرول نے پشاور کے مختلف علاقوں میں بڑی اور مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کیا ہے۔ ایکسائز انٹیلیجنس اسکواڈ کی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 3145 گرام آئس برآمد کر لی گئی جبکہ خاتون سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ محکمہ ایکسائز کے مطابق مذکورہ کارروائیاں پراونشل انچارج ایکسائز انٹیلیجنس سعود خان گنڈاپور اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز ماجد خان کی زیر نگرانی مختلف آپریشنل ٹیموں نے عمل میں لائیں۔ پہلی کارروائی میں ایکسائز انٹیلیجنس اسکواڈ نے پیر زکوڑی پل کے قریب خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے منشیات سمگلر ساجد آفریدی سے دورانِ تلاشی 670 گرام آئس برآمد کر کے اسے موقع پر گرفتار کر لیا۔ دوسری کارروائی میں مشترکہ چیک پوسٹ موٹر وے پشاور پر کارروائی کے دوران منشیات سمگلر محمد ابراہیم سے 540 گرام آئس برآمد کی گئی اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ تیسری کارروائی میں سروس روڈ پر خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ایک خاتون منشیات سمگلر کو لیڈی کانسٹیبل کی مدد سے گرفتار کیا گیا جس کے قبضے سے 1035 گرام آئس برآمد کی گئی۔ چوتھی کارروائی میں جوائنٹ چیک پوسٹ موٹر وے پر منشیات سمگلر محمد عمران ولد عارف علی سے دورانِ تلاشی 900 گرام آئس برآمد کر کے اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں الگ الگ مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن ونارکوٹکس کنٹرول نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز اور پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی تاکہ معاشرے، بالخصوص نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ بنایا جا سکے۔