اسلام آباد (جنگ نیوز) فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے جاری کردہ شفافیت کی تازہ ترین تشخیصی رپورٹ کے مطابق، سندھ کے سرکاری ادارے ’سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 ‘کے تحت درکار معلومات کا اوسطاً صرف 54 فیصد رضاکارانہ طور پر ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ تشخیص فافن کی ’معلومات کے ذریعے غلط معلومات کا مقابلہ‘ نامی مہم کا حصہ ہے، جو ادارہ جاتی شفافیت کو مضبوط بنانے اور غلط و گمراہ کن معلومات کے سدباب کے لیے سرکاری حکام کی جانب سے معلومات کے رضاکارانہ انکشاف کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس تشخیصی جائزے میں صوبہ سندھ کے 61 سرکاری اداروں کا معائنہ کیا گیا، جن میں 36 سیکرٹریٹ ڈیپارٹمنٹس اور25 منسلک محکمے شامل ہیں۔ ان تمام اداروں کی کارکردگی کو ’سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ‘ کی دفعہ 6 کے تحت لازمی قرار دی گئی معلومات کی رضاکارانہ فراہمی کے معیار پر پرکھا گیا۔ قانون کے تحت 14 اقسام کی معلومات کی ازخود فراہمی لازمی قرار دی گئی ہے، جن میں ادارہ جاتی تفصیلات، عوامی خدمات، قانونی ڈھانچے، فیصلہ سازی کے طریقۂ کار اور معلومات تک رسائی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قانون قابل رسائی ذرائع، بالخصوص آن لائن، کے ذریعے تازہ ترین معلومات کی اشاعت پر بھی زور دیتا ہے۔ مجموعی طور پر سیکرٹریٹ ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی، جنہوں نے مطلوبہ معلومات کا اوسطاً 59 فیصد ظاہر کیا، جبکہ اس کے برعکس منسلک محکموں نے صرف 48 فیصد معلومات فراہم کیں۔ سیکریٹریٹ محکموں میں محکمہ خزانہ، محکمہ سرمایہ کاری اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ سب سے زیادہ شفاف قرار پائے، جن میں سے ہر ایک نے درکار معلومات کا 80 فیصد افشا کیا۔ محکمہ اطلاعات 73 فیصد عمل درآمد کے ساتھ ان کے قریب رہا۔ منسلک محکموں میں ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس 73 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ بیورو آف اسٹیٹکس نے 67 فیصد معلومات کی فراہمی کی۔ ان بہتر کارکردگی دکھانے والے اداروں کے باوجود، تشخیصی جائزے میں معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر سرکاری اداروں میں قانون کی تعمیل کے حوالے سے بڑے خلا موجود ہیں۔ مطلوبہ معلومات کا تقریباً نصف (تقریباً 50 فیصد) اب بھی پوشیدہ ہے، خاص طور پر وہ معلومات جو فیصلہ سازی کے عمل، مالیاتی شفافیت، اور حق معلومات کے طریقہ کار کے نفاذ سے متعلق ہیں۔ بنیادی تنظیمی معلومات، جیسے کہ فرائض اور ذمہ داریوں کی تفصیلات، سب سے زیادہ دستیاب زمرہ رہا جو 95 فیصد سرکاری اداروں نے ظاہر کیا۔ عوامی خدمات، سروس ڈیلیوری کی شرائط، اور متعلقہ قانونی ڈھانچے سے متعلق معلومات بھی 95 فیصد اداروں نے فراہم کیں۔ تاہم، حکمرانی سے متعلق معلومات کے معاملے میں تعمیل کی شرح تیزی سے گر گئی: صرف 15 فیصد اداروں نے فیصلہ سازی کے عمل کو ظاہر کیا، محض 10 فیصد نے انتظامی اور ترقیاتی فیصلوں کی تفصیلات بتائیں، جبکہ 54 فیصد اداروں نے بجٹ کی جزوی یا مکمل معلومات شائع کیں۔